BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 January, 2004, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھگلیار ڈیم: تنازع برقرار

ڈیم
بھگلیار ڈیم پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دریائے چناب پر ضلع ڈوڈا میں بنائے جانے والے متنازعہ بھگلیار ڈیم پر بات چیت اتوار کے روز اسلام آباد میں کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی ہے۔

تاہم ہندوستان کے نمائندے نے بات چیت کو ایک قدم آگے کی طرف قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

دونوں ملکو ں کے درمیان انیس سو ساٹھ میں ہونے والے دریائی پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدہ کے تحت بننے والے مستقل انڈس کمیشن (پی آئی سی) کا تین روزہ اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں ختم ہوا جس کے بعد دونوں طرف کے نمائندوں نے اس جھگڑے کے تصفیہ ہونے یا نہ ہونے پر کوئی واضح بات نہیں کہی۔

مستقل انڈس کمیشن کے پاکستان میں کمشنر جماعت علی شاہ کا کہنا ہے کہ بات چیت میں پاکستان نے اپنا موقف پیش کیا اور ہندوستان نے اپنا۔ اب دونوں طرف کے حکام اس بات چیت کی رپورٹ اپنی حکومتوں کو پیش کریں گے۔

جماعت علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت ڈیم میں پانی ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا اور بھگلیار ڈیم کے موجودہ ڈیزائن میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجایش موجود ہے اس لیے اسے تبدیل کیا جائے تاکہ دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ غیر جانبدار انجینیرز سے ڈیم کا ڈیزائن تیار کروانے سے پاکستان کے خدشات کا ازالہ ہوسکے گا۔ انھوں نے کہا کہ نیا ڈیزائن ایسا ہو کہ ہندوستان صرف بجلی پیدا کرسکے اس میں پانی ذخیرہ نہ کرسکے۔ جاعت علی شاہ نے کہا کہ وہ اپنی رپورٹ جلد حکومت پاکستان کو پیش کردیں گے۔

ہندوستان کے پانی کے کمشنر برائے مستقل انڈس کمیشن ڈی کے مہتہ نے کہا کہ پاکستان کو ڈیم کے ڈیزائن پر اعتراض ہے جس پر ہم نظر ثانی کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان صرف بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے اور ڈیم کو دسمبر سن دو ہزار چار تک مکمل کرنا چاہتا ہے۔

ہندوستان کے نمائندے نے کہا کہ انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دریا میں پانی کی آمد اور اخراج ایک شرح سے ہوگا اور پانی کا بہاؤ متاثر نہیں ہونے دیا جاۓ گا۔ اس طرح پاکستان کے خدشات کا ازالہ ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ڈیم میں صرف اتنا پانی جمع کرے گا جتنا بجلی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔

ہندوستان کے نمائندے کا کہنا تھا کہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور انھوں نے پاکستانی وفد کو ہندوستان دورے کی دعوت دی۔ اب وہ ہندوستان حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

گزشتہ دسمبر میں پاکستان حکومت نے باضابطہ طور پر ہندوستان حکومت کو نوٹس بھیجا تھا کہ وہ دسمبر اکتیس تک ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر ریاست میں چناب دریا پر بنائے جانے والے بھگلیار ڈیم کا تنازعہ حل کرے۔

پاکستان نے ہندوستان کو پہلا نوٹس پچھلے سال اگست میں دیا تھا جس کے بعد پاکستان کے آبپاشی کے ماہرین کے ایک تین رکنی گروپ نے اکیس اکتوبر کو متنازعہ ڈیم کا معائنہ کیا تھا۔

اس گروپ کی قیادت پاکستان میں انڈس واٹر کمیشن کے سربراہ جماعت علی شاہ نے کی اور اس میں دو ماہرین اظہارالحق اور بشیر احمد بھی شامل تھے۔

چالیس ارب ہندوستانی روپے کی لاگت سے جموں کے ضلع ڈوڈا میں زیر تعمیر اس ڈیم سے نو میگاواٹ بجلی پیدا کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ جموں و کشمیر ریاست اس پر اب تک چودہ ارب روپے خرچ کرچکی ہے۔

انیس سو ستانوے سے اس پراجیکٹ پر کام شروع ہوا تھا اور تب سے پاکستانی حکومت نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا اور اس کےمعائنہ کے لیے ہندوستان حکومت سے اجازت مانگ رہی تھی جو دو ماہ پہلے مل سکی۔

اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مستقل انڈس کمیشن کے نمائندوں کے درمیان بات چیت اس مسئلہ کو حل نہ کرسکی تو پاکستان اگلے قدم کے طور پر عالمی بینک سے رجوع کرسکتا ہے کہ وہ غیر جانبدار ماہرین کا تقرر کرے جو اس معاملہ کا جائزہ لے کر اس کو حل کروائیں۔

عالمی یبنک انیس سو ساٹھ میں دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کی پانی کی تقسیم کے معاہدہ انڈس واٹر ٹریٹی میں ضامن ہے۔ اس معاہدہ کے تحت راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر ہندوستان کا حق اور چناب، جہلم اور سندھ پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

انڈس واٹر معاہدے کے تحت کوئی ملک کسی ایسے دریا پر کوئی ایسا پراجیکٹ یا ڈیم نہیں بنا سکتا جس سے دوسرے ملک کو دیے جانے والے دریا کے پانی کا آزادانہ بہاؤ رک جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد