سکھر جیل میں صورتِ حال نارمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کی سکھر سینٹرل جیل میں جمعرات کی صبح ہنگاموں کے بعد جو لوگوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا انہیں آزاد کرا لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات سندھ غلام حسین کھوسو نے بی بی سی اردو سروس کے عمر آفریدی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں سے مذاکرات کے بعد صورتِ حال معمول پر آگئی ہے اور یرغمال بنائے جانے والوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ صحافیوں کو ان لوگوں سے ملوایا بھی گیا جنہیں قیدیوں نے پکڑ رکھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہ کہا کہ قیدیوں کا ردِعمل کئی وجوہات کی بنا پر تھا لیکن اب صورتِ حال قابو میں ہے اور قیدیوں نے حکام کی بات مان لی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں غلام حسین کھوسو کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ جیل میں اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے جب قیدیوں نے جیل کے دس سے زائد پولیس اہلکاروں اور ملازمین کو یرغمال بنا لیا اور اپنی بیرکوں سے باہر آ گئے۔ قیدی اس قدر بے قابو ہو گئے تھے کہ وہ جیل کی چھتوں پر چڑھ گئے جہاں سے انہوں نے نعرے بازی شروع کر دی۔ جیل انتظامیہ نے قیدیوں پر قابو پانے کے لیے ضلعی پولیس کی مدد طلب کی۔ ضلعی حکام نے پورے ضلع سے پولیس کی نفری طلب کی اور جیل کو نہ صرف گھیرے میں لے لیا بلکہ قیدیوں پر آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے۔ جیل کے باہر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی ہیں۔ دوپہر تک اس ہنگامے پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا اور جیل کے ایک چھوٹے اہلکار کے مطابق قیدی آزاد ہیں اور ہنگامہ جاری ہے۔ دوسری طرف حکام نے سکھر میں ہسپتالوں کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکنا کر دیا ہے۔ سکھر سینٹرل جیل میں گزشتہ کئی ماہ سے قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر حال ہی میں حکام نے پچاس سے زائد قیدیوں کو کراچی اور حیدر آباد منتقل کر دیا تھا جس کے بعد قیدیوں میں اجتماعی طور پر اشتعال پایا جاتا تھا۔ قیدیوں کا ایک گروہ سندھ میں جیلوں میں جیل حکام کے رویے کو غیر انسانی اور ناجائز بھی قرار دیتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||