پولیس افسر حملے میں شدید زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں جمعرات کی شب نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ایک جیل سپرنٹنڈنٹ اور اُن کے عملہ کے دو افراد کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ حملہ اُس وقت کیا گیا جب جیل سپرنٹنڈنٹ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مسجد سے نمازِ عِشاء ادا کرکے نِکل رہے تھے۔ رحیم یار خان پولیس سے مِلنے والی معلومات کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ جام عزیزالرحمان اپنے ڈرائیور عبدالمجید، محافظ محمد نواز اور ایک دوست عثمان کے ہمراہ اپنی ذاتی گاڑی پر رحیم یار خان شہر کے عِلاقے سکھر اڈے کے قریب واقع تبلیغی جماعت کےعلاقائی مرکز مسجد صدیقیہ میں نماز پڑھنے گۓ۔ ادائیگیِ نماز کے بعد وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ ہی رہے تھے کہ ایک نامعلوم حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی ۔ جِس کے نتیجے میں جام عزیز کو سر اور جبڑے پر جبکہ ڈرائیور مجید اور مُحافظ نواز کو چھاتی پر گولیاں لگیں ۔ تاہم عثمان کے بارے بتایا جا رہا ہے کہ وہ اِس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے ۔ حملہ آور اور دو موٹر سائیکلوں پر سوار اس کے تین دیگر ساتھی جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تینوں زخمیوں کو رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں جیل سپُرنٹنڈنٹ جام عزیز کی حالت نازُک بتائی جا رہی ہے ۔ پولیس حُکام کے مُطابق جیل سپرنٹنڈنٹ اور اُن کے ساتھیوں پر حملے کا فرقہ واریت سے تعلق بظاہر ممکن نظر نہیں آتا لیکن تفتیش کے دوران اِس پہلو کو بھی مدِ نظر رکھا جاۓ گا۔ ایک سینئر پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ روز قبل جام عزیز نے رحیم یار خان ڈسٹرکٹ جیل سے پندرہ کے قریب خطرناک قیدیوں کو بہاولپور کی سنٹرل جیل منُتقل کرا دیا تھا جس پر جیل میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔ پولیس کا خیال ہے کہ جام عزیز کے انتظامی فیصلے سے متاثر ہونے والےخطرناک قیدیوں کے ساتھی اُن پر حملے میں ملوّث ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||