BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 May, 2005, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لواحقین سامنے آئیں: پاکستان

پاکستان نے700 سے زائد بھارتی مچھیروں کو رہا کیا تھا
پاکستان نے700 سے زائد بھارتی مچھیروں کو رہا کیا تھا
پاکستان کی وزارت داخلہ نے بھارتی جیلوں میں قید گونگے، بہرے یا ذہنی طور پر معذور پانچ پاکستانیوں کے ورثا سے اپیل کے ہے کہ وہ ان قیدیوں کی پاکستان واپسی کے لئے حکومت سے رابطہ کریں۔

ایک حکومتی ہینڈ آؤٹ کے مطابق گلزار ولد جارو خان، احمد حسن، شیخ ثابت ولد شوکت اور دو مزید پاکستانی، جن کے نام نہیں دیئے گئے مگر ان کی تصاویر جاری کی گئی ہیں، مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ان قیدیوں کی تفصیلات حکومت کو بھجوائی ہیں جن کے بعد ان لوگوں کے بارے میں معلومات اور تصاویر جاری کی گئی ہیں۔
ان میں سے تین افراد جوان جبکہ دو ادھیڑ عمر کے لگتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ان افراد کے بارے میں یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ وہ کب بھارت گئے تھے اور آیا وہ کسی جرم میں پکڑے گئے تھے یا غلطی سے سرحد پار کر گئے تھے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ کے مطابق بھارت میں تقریباً 400 پاکستانی شہری قید ہیں جو ان سینکڑوں ماہی گیروں کے علاوہ ہیں جنہیں گزشتہ برس سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی حکام نے گرفتار کیا تھا۔

ادھر پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی جیلوں میں اس وقت ایک سو بیاسی بھارتی قید ہیں جن میں سے اب تک صرف 50 کو بھارتی سفارتخانے تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے فروری میں سینیٹ کے اجلاس میں وقفۂ سوالات میں تحریری طور پر بتائے۔

یہ اعداد و شمار ایک انگریزی روزنامے میں بھارتی قیدیوں کے متعلق ایک رپورٹ چھپنے کے بعد دیئے گئے ہیں۔ روزنامے نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ بھارتی شہری برسوں سے پاکستانی جیلوں میں بند ہیں اور ان میں سے بیشتر کو کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ان میں سے کچھ قیدی اپنی یاداشت تک کھو بیٹھے ہیں۔

ان اعداد و شمار میں بھارتی شہریوں کے نام اور ولدیت تو دی گئی ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو کب اور کس جرم میں پکڑا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ بھارت میں قید چوبیس پاکستانی باشندے رہائی پا کر واہگہ کے راستے لاہور پہنچےتھے۔

یہ لوگ بھارت کے مختلف علاقوں کی جیلوں میں گزشتہ دو سال سے پندرہ سال تک قید رہے۔ ان پر الزام تھا کہ یہ بغیر ویزے کے سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔

کچھ دوسرے قیدیوں پر یہ الزام تھا کہ وہ ویزے کی مدت سے زیادہ عرصہ بھارت میں مقیم رہے۔

رہا ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق پنجاب کے سرحدی علاقوں سیالکوٹ، شکرگڑھ، نارو وال، قصور اور بہاولنگر سے تھا۔

بھارت نے گزشتہ ماہ ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانی ماہی گیروں کو بھی رہا کیا تھا۔ پاکستان نے بھی خیر سگالی کے جذبے کے تحت سات سو سے زائد بھارتی مچھیروں کو رہا کیا تھا۔

دونوں ممالک کی جیلوں میں قید افراد کی برسوں بعد وطن واپسی دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد