265 بھارتی ماہی گیر رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہونے کے الزام میں تقریباً ایک سال پہلے پکڑے گئے اڑھائی سو سے زیادہ ہندوستانی مچھیرے رہائی کے بعد آج ہندوستان چلے گئے تاہم ان کی کشتیاں بعد میں بھیجی جائیں گی۔ دو سو پینسٹھ مچھیرے چند روز پہلے کراچی سے لاہور لائے گئے تھے اور انہیں عارضی طور پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا تھا جہاں سے آج انہیں پولیس واہگہ لائی اور رینجرز حکام کے سپرد کیا۔ ان ماہی گیروں میں اٹھائیس کم عمر لڑکے بھی تھے اور بوڑھے اور جوان بھی۔ یہ سب گھنٹوں گھاس پر بیٹھے رہے جہاں ان کی گنتی اور شناخت کی گئی۔ بھارتی ہائی کمیشن نے انہیں پاسپورٹ کی جگہ عارضی سفرنامے دیے تھے جن پر ان کی امیگریشن کی گئی۔ رہا ہوکر گھر واپس جانے والےزیادہ تر مچھیروں نے میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے تھے اور ہاتھوں میں بیگ اور ٹین کے بکس اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کپڑے اور بیگ انہیں عبدالستار ایدھی نے فراہم کیے تھے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ قید کے دوران ان کا اپنے گھر والوں سے خط کے ذریعے رابطہ رہا۔ جن مچھیروں سے بات کی گئی وہ سب گجرات صوبہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک مچھیرے نے اپنا نام جمنا داس بتایا۔ اس کے تین بچے ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک سال پہلے پکڑا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پاکستان میں قید کے دوران اس کا اپنے گھر والوں سے خط کتابت کے ذریعے رابطہ تھا۔ ایک اور مچھیرے ، پرسودم، نے بتایا کہ وہ گجرات کے علاقہ ڈیول کا رہنے والا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے۔ اس نے کہا کہ مچھیرے اس لیے پکڑے جاتے ہیں کہ انہیں مچھلیاں پکڑتے ہوئے پتہ نہیں چلتا کہ کراچی کا سمندر شروع ہوگیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ حکومت بھی اس سلسلہ میں کچھ نہیں کرسکتی کیونکہ اگر کوئی نشانی لگائی جائے تو سمندر میں ڈوب جائے گی۔ وزارت داخلہ پاکستان کے ایک اہلکار غلام محمد نے جو انہیں چھوڑنے کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں کل آٹھ سو چالیس بھارتی مچھیرے قید ہیں جن میں سے دو سو چھیاسٹھ کو رہا کرکے ہندوستان بھیجا جارہا ہے جبکہ دو یہاں انتقال کرگئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سو سے زیادہ مچھیرے ہندوستان کی قید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کشتیاں مرمت طلب تھیں اور ان کی مرمت کے لیے ایک دس رکنی بھارتی وفد آیا ہے اور جب یہ مرمت ہوجائیں گی تو انہیں بھی ہندوستان روانہ کردیا جائے گا۔ مچھیروں کو واہگہ پر الوداع کہنے کے لیے آئے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیر جیل خانہ جات سعید اکبر نوانی نے بی بی سی کوبتایا کہ پنجاب کی جیلو ں میں ایک سو تیس ہندوستانی باشندے قید ہیں جن میں سے سو سے زیادہ افراد اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اور انہیں کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کرنے پر اس کا پتہ چلا تو پانچ مہینے پہلے انہوں نے دفتر خارجہ اور ہندوستان کے ہائی کمیشن کو ایک خط لکھا کہ ان کی رہائی کے لیے کوشش کی جائے لیکن اب تک انہیں اس کا جواب موصول نہیں ہوا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||