تینتالیس بھارتی ماہی گیرگرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت کرنے والے ادارے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر تینتالیس بھارتی ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان ماہی گیروں کو کراچی کے مشرق میں سو نوٹیکل میل کے اندر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے زیرِ استعمال آٹھ لانچیں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ پاکستان نے دو ہزار چار میں اب تک قریباً آٹھ سو بھارتی ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا ہے جبکہ بھارتی جیلوں میں اسی الزام کے تحت ایک سو نو پاکستانی قید ہیں۔ ماہ نومبر کے آغاز میں دونوں ممالک کے حکام نے ماہی گیروں کی رہائی کے سمجھوتے پر بات چیت شروع کی تھی جو کہ ابھی تک بے نتیجہ رہی ہے۔ گز شتہ دسمبر میں پاکستان اور بھارت نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت سینکڑوں ماہی گیروں کو رہا کیا تھا مگر اس سال ماہی گیروں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا۔ پاکستان فشر فورم کے صدر محمد علی شاہ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ گرفتاریاں دونوں ممالک کی طرف سے سمندری سرحد پر لائٹ ہاؤس نصب نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود میں لائٹ ہاؤس نصب کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||