بدین کے ملاحوں کی شکایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقریباً بیس برس قبل ضلع ٹھٹھہ اور بدین کی سرحدی حفاظت کے لیے تھر رینجرز کو تعینات کیا گیا تھا۔ یہ تعیناتی اب بھی جاری ہے مگر مقامی ماہی گیروں کو رینجرز سے سخت شکایات ہیں۔ اس سلسلے میں رینجرزاور ماہی گیروں کے درمیان صورتحال پر فشر فوک فورم نامی تنظیم کے سے ملنے والی معلومات کے مطابق ضلع بدین کی آٹھ کرِیکس پر تھر رینجرز کا ’بے جا قبضہ‘ ہے جو ماہی گیروں کے ہاتھ آنے والی مچھلیوں کی آزادانہ فروخت کی اجازت نہیں دیتے اور ان سے حاصل شدہ مچھلی کو مبینہ طور پر نیلام کردیتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر ان ماہی گیروں کو مچھلی فروخت کرنے کی اجازت دی بھی جاتی ہے تو دس کلو فی پیٹی سے اسّی سے ایک سو بیس روپے کے حساب سے کمائی ہو پاتی ہے جبکہ اِسی وزن کی پیٹی اگر کراچی میں فروخت کی جاتی ہے تو بارہ سو روپے تک مل جاتے ہیں۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو رینجرز کے بجائے اس علاقے میں پاکستان نیوی کی پاک میرین کو تعینات کرنا چاہیے تاکہ ماہی گیر اپنی پکڑی گئی مچھلی کو ایک سالانہ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد آزادانہ طور پر فروخت کر کے اپنا خرچ بآسانی چلا سکیں۔ بدین کے ملاحوں سے گفتگو کے بعد پتہ چلا ہے کہ نہ صرف ان کی جال میں آنے والی مچھلیوں کا آکشن ہو تا ہے بلکہ انہیں مچھلی اپنے گھر لے جانے کےلیے ایک دشوار گزار مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوکیوں پر چنگی کے بعد ان کے ہاتھ بہ مشکل اتنی مچھلی آتی ہے کہ وہ پیٹ بھر سکیں۔ کراچی سے ٹھٹھہ تک واقع کسی کرِیک پر ماہی گیروں کو اس طرح کی شکایت نہیں ہے۔ بدین کے مای گیر اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ اب سے چند روز قبل فِشر فوک فورم کے تحت بدین کے ملاحوں نے بائیس نومبر کو کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کرنے اعلان کیا تھا۔ جس کی خبر ملتے ہی رینجرز نے مبینہ طور پر بدین کے ساحلی گاؤں بخش علی ملاح کنڈڑی کے چند گھروں میں سیکیورٹی کے بہانے گھس کر عورتوں اور مردوں کو زدو کوب کیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی حکومت نے فی الحال دفعہ ایک سو چوالیس عائد کر دی ہے جس کے تحت نہ تو مچھلی شکار کی جا سکتی ہے اور نہ ہی فروخت۔ ملاحوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا نقضان تو ہے مگر انہیں امید ہے کہ مہینے کے اندر اندر ان کے مسائل کے حل کے لیے کچھ نہ کچھ اقدامات کیے جائیں گے۔ ماہی گیروں کا مطالبہ ہے کہ رینجرز کی چوکیاں آبادی سے پانچ کلو میٹر دور اور بارڈر سے نزدیک کر دینی چاہیں۔ اس سلسلے میں جمعہ کو کراچی میں فشر فوک فورم کے تحت بدین، ٹھٹھہ اور ابراہیم حیدری کے ماہی گیروں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ آج یعنی ہفتے کو بھی بدین کے شاہنواز چوک سے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||