سندھ کے روایتی قبائلی جھگڑے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں ان دنوں دو درجن کے لگ بھگ قبائل کے درمیاں خونی تنازعات چل رہے ہیں اور آئے دن ایک دو افراد کا قتل معمول بن چکا ہے۔ جہاں ان قبائلی تنازعات میں سینکڑوں معصوم انسانوں کی زندگیاں تباہ ہوئی ہیں وہیں متعلقہ قبائل کے لوگوں کے کاروبار اور بچوں کی تعلیم بھی سخت متاثر ہورہی ہے۔ برسا برس سے جاری ان قبائلی تنازعات کی وجوہات جاننے کے لیے میں نے سندھ کے مختلف اضلاع کا دورہ کیا۔ قبائلی سرداروں، پولیس افسران، منتخب عوامی نمائندوں اور کاروباری لوگوں سے بات چیت کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ جہالت ہی قبائلی تنازعات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ قبائلی لوگ چھوٹی چھوٹی بات کو اپنی عزت، غیرت اور انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں اور کسی بھی انسان کا قتل کرنا جیسے ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔ دوسری بڑی وجہ عام لوگوں کے مطابق مختلف قبائل کے سردار ہیں جو ان کے بقول چاہتے ہیں کہ لوگ آپس میں لڑے رہیں اور ان کی سلامی بھرتے رہیں۔ بیشتر قبائل کے درمیاں تکرار کی بنیاد انتہائی معمولی معاملات ہیں۔ جیسا کہ ضلع شکارپور میں آٹھ برس کے لگ بھگ عرصہ تک عیسانی اور جکھرانی قبائل کے درمیاں جاری خونی تکرار میں دو درجن کے لگ بھگ افراد مارے گئے۔ اس تنازعے کی بنیاد، کھیت سے ایک کھیرا توڑنا تھا۔ ان قبائل کا حال ہی میں تصفیہ ہوا ہے۔
ضلع جیکب آباد میں جکھرانی اور بھیا قبائل کے درمیاں اب بھی خونی تکرار جاری ہے اور ان کے کئی لوگ راتوں کو پہرے دیتے ہیں۔ اس تنازعہ میں اب تک سات کے قریب لوگ قتل ہوچکے ہیں۔ اس تنازعے کی بنیاد بھی غلطی سے بھینس کا فصل میں گھس جانا ہے۔ ضلع شکارپور میں مہر اور جتوئی قبائل کے درمیاں برسا برس سے خونی جھگڑا چلا آرہا ہے لیکن درمیان میں صلح بھی ہوتی رہتی ہے لیکن پھر جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔ ان کا تنازعہ اکثر طور پر مال مویشیوں کی چوری اور فصلوں میں مویشیوں کے گھسنے وغیرہ جیسے معمولی معاملات پر ہوتے ہیں۔ جیکب آباد میں چاچڑ اور سبزوئی قبائل کے درمیاں ایک بیل کی چوری پر اٹھارہ برس سے خونی تنازعہ جاری ہے جس میں اب تک دو درجن کے لگ بھگ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ان قبائل کے لوگوں کی شہروں میں آمد رفت کم ہوگئی ہے، کاروبار تباہ ہوچکے، کئی خاندان نقل مکانی کرکے شہر چھوڑ گئے ہیں۔ قبائل کے سکول جانے کی عمر والے نوجوانوں کے کندھوں پر کلاشنکوف اور راکٹ لانچر لٹکتے ہیں۔ کوئی اگر چرواہا بھینسیں یا بکریاں چرانے جاتا ہے تو خودکار اسلحہ سے مسلح ہوتا ہے۔ وڈیرے میر حسن چاچڑ کے گاؤں میں سرکاری سکول سے ملحقہ ان کی بیٹھک میں ابھی ہم پہنچے ہی تھے کہ اچانک ہر طرف سے مسلح لوگ نمودار ہوئے۔ مچھلی کا کاروبار کرنے والے ہلکے قد کے خیر بخش چاچڑ کا دعویٰ تھا کہ وہ کراچی اور لاہور تک مچھلی بھیجتے تھے اور ان کا لاکھوں کا کاروبار قبائلی جھگڑے کی وجہ سے تباہ ہوگیا ہے۔ جب ان سے میں نے کہا کہ صلح کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے ایک دم سے جواب دیا کہ ہمارے قبیلے کے زیادہ بندے مرے ہیں جب تک برابر نہیں کریں گے کیسے صلح کریں؟
منظور عرف منوں سبزوئی سے ملنے جب ان کے گاؤں جا رہے تھے تو نہر کنارے دونوں جانب گڑھے کھودے ہوئے تھے تاکہ پولیس وغیرہ سمیت کسی کی بھی گاڑی نہ گزر سکے۔ہاں البتہ موٹرسائیکل آسانی سےگزر سکتی ہے۔ اس جگہ رکنے والے منوں کی بیٹھک پر بیٹھے لوگوں کو نہیں دیکھ پاتا لیکن اس بیٹھک والے رکے ہوئے آدمی کو فوری تاڑ لیتے ہیں۔ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ہم نے گاڑی روکی اور تین سے چار منٹوں میں ایک شخص موٹر سائیکل پر آیا جس نے اپنا نام’کے ٹو‘ بتایا وہ اپنے ہمراہ منوں کی بیٹھک یا اوطاق پر لے آیا۔ اپنی بیٹھک کے صحن میں ایک درخت تلے پندرہ بیس مسلح لوگوں کے ہمراہ دراز قد اور سانولے رنگ کا منوں سبزوئی سگریٹ پر سگریٹ پھونکے جارہا تھا۔ طرح طرح کے خودکار ہتھیار ایک چار پائی پر پڑے تھے جبکہ موبائیل فون اور ایک لینڈ لائن فون کا سیٹ ان کے سامنے ٹیبل پر پڑے تھے۔ منوں سبزوئی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ علاقے میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتا ہے اور کاروباری لوگوں بالخصوص ہندو برادری سے بھتہ بھی لیتا ہے۔ جب ان سے میں نے ان الزامات کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے موچھ کو بل دیتے ہوئے کہا کہ کون کہتا ہے، ذرا سامنے لائیں! چاچڑ قبیلے کے مقدم میر حسن اور سبزوئی قبیلے کے نور حسن خان نے ایک دوسرے پر سمجھوتہ نہ کرنے اور تنازعہ کو طول دینے کے الزامات عائد کیے۔
شہر کے ایک ڈاکٹر حضور بخش نے بتایا کہ دونوں قبائل کے لوگ شہر میں نہیں آتے۔ ان کے مطابق مریضوں کو بھی اس خوف کے مارے نہیں لاتے کہ کہیں مارے نہ جائیں۔ قوم پرست سیاسی رہنما گل محمد جکھرانی کا کہنا تھا کہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور پولیس کوئی قدم نہیں اٹھاتی ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قبائلی تنازعات ختم کرانے میں سنجیدہ ہے تو متعلقہ قبائل کے سرداروں کو گرفتار کریں تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ تحصیل کندھ کوٹ کے پولیس چیف عبدالستار بھٹو نے تسلیم کیا کہ قبائلی معاملات میں پولیس براہ راست مداخلت نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ قبائل کے لوگوں کے پاس اتنے خطرناک ہتھیار ہیں جو پولیس کے پاس بھی نہیں۔ ان کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سرداری نظام ہے اور ضلع جیکب آباد میں اتنے سردار ہیں کہ اگر کوئی پتھر بھی پھینکے گا تو کسی نہ کسی سردار کو ہی لگے گا۔ جیکب آباد کے ضلعی حکومت کے سربراہ شبیر احمد خان بجارانی کا کہنا تھا کہ پولیس کو ضلع ناظم کے ماتحت کیا جائے تو معاملات کافی حد تک ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ان کا دعویٰ تھا کہ ذاتی طور پر انہوں نے قبائلی جھگڑے ختم کرانے کی کوشش کی ہے لیکن زیادہ تر لوگ جہالت کی وجہ سے بدلہ لینے کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور معمولی سی بات پر بھی قتل کردیتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ قبائلی جھگڑوں اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کے خاتمے کا حل کیا ہے؟ کیا واقعی جہالت کا خاتمہ اور تعلیم کا عام ہوجانا یا پولیس کو ضلعی ناظم کے ماتحت کرنے سے مسئلہ حل ہوسکے گا؟ کیا معاشی خوشحالی اور اس علاقے کے لیے ترقیاتی منصوبے کوئی ایسی مصروفیت پیدا کرسکتے ہیں کہ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑنے اور قتل کرنے کا موقع نہ دیں۔ کیا ان قبائلی جھگڑوں کے خاتمے کی ذمہ داری صرف سرداروں، پولیس اور ناظموں کی ہے۔ متعلقہ قبائل کے مختلف لوگوں سے بات کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اصل بات نیت کی ہے اور جب تک متعلقہ فریقین کی نیت ان قبائلی جھگڑوں کو ختم کرنا نہ ہو یہ جھگڑے شاید کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||