ماہی گیرکوٹ لکھپت جیل منتقل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دو سو اڑسٹھ ماہی گیروں کو کراچی کی لانڈھی جیل سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کر دیا گیاہے اور جہاں سے انہیں واہگہ کے راستے ان کے وطن بھارت بھجوایا جائےگا۔ ان ماہی گیروں کو گزشتہ برس پاکستان کی میری ٹائم ایجنسی کے اہلکاروں سمندر سے گرفتار کر لیا تھا۔ پاکستانی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ انہیں گزشتہ روز خیبرمیل کے ذریعے کراچی سے لاہور منتقل کر دیا گیا۔ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر ایک طرف ایدھی فاؤنڈیشن کے اہلکار ان کے لیے کھانا لیکر آۓ تھے تو دوسری جانب لاہور پولیس کے اہلکار سات بسیں لیے کھڑے تھے۔ خیبر میل رات ساڑھے گیارہ بجے لاہور کے ریلوے سٹیشن پہنچی اور ماہی گیروں کو گنتی کے بعد بسوں میں بٹھا دیا گیاجو انہیں کوٹ لکھپت جیل لے گئیں۔ پاکستانی حکام نے ان ماہی گیروں کی کشتیاں واپس نہیں کیں اور ان ماہی گیروں کی انہی کی لانچوں پر سمندر کے راستے بھارت واپس بھجوانے کی استدعا بھی مسترد کر دی ہے۔ خیبر میل سے لاہور پہنچنے والے ایک ماہی گیر کشن نے کہا کہ ان کی کشتیاں واپس نہیں کی گئیں تو ان کے لیے روزگار کمانا مشکل ہوجاۓگا۔انہوں نے کہا کہ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ پاکستانی حکام ان کی اور بھارتی حکام گرفتار پاکستانی ماہی گیروں کی کشتیاں بھی انہیں واپس کر دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی اچھا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو گرفتار ہی نہ کیا جائیں۔ اتر پردیش کے راج بیرنے کہا کہ جیل میں انہیں ان کے گھر سے خط آجاتا تھا اور انہی خطوط کے سہارے جیل میں ان کا ایک سال کٹ گیااور اب انہیں واپس جانے کی جو خوشی ہے وہ ان کے لیے ناقابل بیان ہے۔ منہیس سترہ برس کے تھے جب انہیں ان کے دیگر انتالیس ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا اور کیماڑی سے کراچی کی لانڈھی جیل میں منتقل کیا گیا۔ منہیس کو پاکستانی قید میں ہر وقت اپنے ماں باپ کی یاد ستاتی رہتی تھی۔ کراچی ایدھی ہوم کے انچارج امان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کے لیے بلقیس ایدھی بھارت گئی ہوئی ہیں اور بھارتی حکام سے بات چیت کر رہی ہیں۔ انہوں نے بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان کو خط لکھے تھے جس کے نتیجے میں فی الحال دو سو اڑسٹھ بھارتی ماہی گیروں کی رہائی عمل میں آرہی ہے اور جلد مزید ماہی گیروں کو بھی رہا کیا جاۓگا۔ انہوں نے کہا کہ ان قیدیوں کو ایک دو روز جیل رکھنے کے بعد واہگہ کے راستے بھارت بھجوایا جاۓگا اور تب ہی ان کی حقیقی رہائی ہو سکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||