BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 December, 2004, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی ماہی گیر رہا کرنے کا اعلان

ماہی گیروں کی گرفتاریاں معمول کی بات بن گئی ہے (فائل فوٹو)
ماہی گیروں کی گرفتاریاں معمول کی بات بن گئی ہے (فائل فوٹو)
پاکستانی حکام 266 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ ان ماہی گیروں کو پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر اس سال کے اوائل میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارتی ماہی گیروں کی تنظیم ساگر کھیڈوت کلیان ٹرسٹ کا ایک وفد جو ایک مہینے کے دورے پر پاکستان پہنچا ہے پاکستانی حکام سے مزید ماہی گیروں کی رہائی کے لئے مذاکرات کر رہا ہے۔

تنظیم کے سربراہ پریم بھائی موتی نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے وفد کے سندھ حکومت سے مذاکرات ہوئے ہیں جس کے بعد سندھ کے ہوم سیکریٹری نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں 266 بھارتی ماہی گیروں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ ماضی کی طرح ان ماہی گیروں کی کشتیاں ضبط کر لی جائیں گی اور ان کو واگہ کے راستے بھارت واپس بھجوایا جائے گا۔

صرف اس سال تقریبا 900 بھارتی ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 141 پاکستانی ماہی گیربھارتی جیلوں میں قید بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان کی ’میری ٹائم‘ سکیورٹی ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی ماہی گیر پاکستان کی سمندری حدور میں آ کر مچھلیاں پکڑتے ہیں اور بار بار وارننگ کے باوجود یہ خلاف ورزیاں جاری ہیں جس کے بعد میری ٹائم ایجنسی کو مجبوراً ان ماہی گیروں کو گرفتار کرنا پڑتا ہے۔

تاہم پاکستانی ماہی گیروں کی تنظیم فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے غریب ماہی گیر اس معاملے میں بالکل بے قصور ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کی سمندری حدود واضح نہیں ہیں اور سرحد پر کوئی سگنل نصب نہیں ہے جس کے باعث ماہی گیر غلطی سے سرحد عبور کر جاتے ہیں۔

بھارتی تنظیم کے سربراہ پریم بھائی موتی نے بتایا کہ اسلام آباد میں پاکستانی حکام نے بھارتی ہائی کمشنر شیو شنکر مینن سے 24 دسمبر کو ایک ملاقات کی ہے جس میں بھارتی ماہی گیروں کی رہائی سے متعلق بات ہوئی ہے۔

پریم بھائی نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام بھارتی ماہی گیروں کی کشتیاں انہیں واپس کر کے سمندر کے راستے جانے کی اجازت دیں تاکہ ان ماہی گیروں کے روزگار کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

ان ماہی گیروں کو کسی مقدمے کے بغیر جیلوں میں رکھاجاتا ہے اور ان کی رہائی دونوں ملکوں کے حکام کےدرمیان ہونے والی بات چیت پر منحصر ہوتی ہے۔

دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات میں بتدریج بہتری کے آثار کے باوجود دونوں ممالک کی میری ٹائم ایجنسیاں ایک دوسرے کے ماہی گیروں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد