محروم زندگیوں میں خوشی کے چند لمحے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اتوار کو ماہی گیروں کا عالمی دن منایا گیا۔ ماہی گیروں کی تنظیم فشر فوک فورم نے کراچی کے ساحلی علاقے جاموٹ جیٹی میں ایک رنگا رنگ میلے کا اہتمام کیا جس میں سندھ اور بلوچستان سے ہزاروں ماہی گیروں نے شرکت کی۔ علاقائی دھنوں اور ڈھول کی تاپ پر رقص کرتے نوجوان اور سجی سنوری خواتین نے اپنی مشکلات اور غم بھلا کر میلے میں ماہی گیر طبقے کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔ فشر فوک فورم کے مطابق ماہی گیر ملک کا سب سے محروم اور غریب طبقہ ہے جس کی اکثریت تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اس میلے میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں پاکستان اور بھارت کے ماہی گیروں کی گرفتاری اور ان سے جنگی قیدیوں کا سا سلوک کرنے پر احتجاج کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ماہی گیر پر امن شہری ہیں اور سمندر میں اپنی روزی تلاش کرتے ہیں مگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث ماہی گیروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہی گیروں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری حدود کو واضح کرنے کے لئے سگنلز یا لائٹ ہاؤس لگائیں تاکہ ماہی گیر غلطی سے سمندری حدود کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس وقت سات سو سے زائد بھارتی ماہی گیر پاکستان میں قید ہیں جبکہ ایک سو سے زائد پاکستانی بھارتی جیلوں میں ہیں۔ فشر فوک فورم نے حکومت کی طرف سے گہرے سمندر میں چلنے والے ٹرالرز کو پاکستان کی سمندری حدود میں مچھلی کے شکار کا لائسنس جاری کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ فورم کے سربراہ محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹرالرز مچھلی کے ذخائر تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان ٹرالرز کو نہ روکا گیا تو ماہی گیر ان ٹرالرز کا گھیراؤ کریں گے۔ محمد علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں تیتس لاکھ سے زائد ماہی گیر ہیں جن کے لئے کسی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ میلے میں موجود صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے ماہی گیروں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||