سزا چھ ماہ، جیل دس سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک پاکستانی کو فارن ایکٹ کے تحت دس سال پہلے چھ ماہ کی سزا سنائی گئی لیکن رہائی اسے جمعرات کو دس سال بعد ہائی کورٹ کے حکم پر ملی ہے۔ عزیزاللہ کو نوشکی میں جنوری انیس سو چھیانوےمیں گرفتار کیا گیا اور فارن ایکٹ کے تحت اسے چھ ماہ کی سزا سنائی گئی اور مشہور زمانہ مچھ جیل میں رکھا گیا جہاں عزیزاللہ نے آٹھ سال گزارے جس کے بعد میں اسے کوئٹہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ عزیزاللہ کی وکیل عندلیب قیصرانی نے بتایا ہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم اور انسانی حقوق کی تنظیم کی کوششوں سے بلوچستان ہائی کورٹ نے سوو موٹو ایکشن لیا اور محکمہ داخلہ کی تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ عزیزاللہ کراچی کا رہنے والا ہے لیکن کافی عرصہ برما میں گزارا ہے۔ عزیزاللہ کی پیدائش بھی کراچی کی ہے۔ عندلیب کے مطابق عزیزاللہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کے کوئی قریبی رشتہ دار نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں نے شروع شروع میں اس کی تلاش کی تھی لیکن بعد میں وہ بھی خاموش ہو گئے تھے۔ عندلیب نے بتایا ہے کہ عزیزاللہ تو کراچی روانہ ہو گیا ہے لیکن اس وقت کوئی پچہتر بھارتی یہاں بلوچستان کی جیلوں میں فارن ایکٹ کے تحت گرفتار ہیں جن میں سے بیشتر نے اپنی اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ چھیالیس بھارتی کافی عرصہ سے یہاں جیلوں میں ہیں جبکہ انتیس سکھوں کو کچھ عرصہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||