سرحد کی جیلوں کے نو عمر ’مہمان‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں ایک غیرسرکاری تنظیم سپارک کا کہنا ہے کہ مختلف جیلوں میں اس وقت قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ستر کم عمر بچے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لئے کام کر رہی ایک غیرسرکاری تنظیم سپارک نے گزشتہ دنوں صوبہ سرحد کی جیلوں کا سروے کیا جس کے نتیجے میں اس کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ستر بچے قید بھگت رہے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ کو لکھے گئے ایک خط میں سپارک نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان بچوں میں پندرہ ایسے بھی ہیں جن کی عمر دس برس سے بھی کم ہے۔ انہوں نے ایک ایسے کیس کا بھی ذکر کیا جس میں دو سالہ بچی زرمینا کو ہری پور جیل میں اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ قبائلی علاقے کی انتظامیہ نے تین سال کی قید سنائی ہے۔ اس خاندان کا تعلق لکی مروت کے علاقے میں ایک حکومت کو مطلوب مبینہ اغوا کار ارسل سے ہے۔ کئی ماہ کی کوششوں اور کارروائیوں کے بعد جب حکومت اسے گرفتار نہیں کر سکی تو اس کے تمام خاندان کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ سپارک کا کہنا ہے کہ یہ مروجہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سپارک کے پشاور میں نمائندے جواد اللہ نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ قبائلی قانون جیسے اس کے ناقدین کالا قانون بھی کہتے ہیں مقامی انتظامیہ کو ایسے اختیارات دیتا ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس کے فیصلہ کو ملک کی اعلی عدالتوں میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم نے صدر اور گورنر سے ایف سی آر کے قانون کے تحت قید ان بچوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||