BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 April, 2004, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغیر چھت کی جیل

بغیر چھت کی جیل
لاہور کے باری سٹوڈیوز میں لگا تھانے اور حوالات کا ایک سیٹ
میں لاہور کی ایک جیل میں بند ہوں۔ اس کوٹھڑی کے تین جانب دیواریں ہیں، ایک طرف سلاخیں اور چھت ندارد۔

یہ کوئی عام جیل نہیں بلکہ باری فلم سٹوڈیو میں لگا ایک سیٹ ہے جہاں فلم جاگیر کی شوٹنگ ہونے والی ہے۔ سیٹ تیار ہے، لائٹ اور ساؤنڈ والے اپنا اپنا کام کر چکے ہیں، اور نسبتاً غیر معروف اداکار پولیس کی وردی پہنے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ چکے ہیں اور اب صرف بڑے اداکاروں کا آنا باقی ہے، جس میں کچھ منٹ بھی لگ سکتے ہیں اور کئی گھنٹے بھی۔

مجھے اس فلمی جیل میں بند کرنے والے بابا خادم حسین ہیں جو اس سیٹ کے خالق ہیں اور وہ مجھے احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی بنائی ہوئی جیل کوٹ لکھپت کی کال کوٹھڑی سے کم ڈراؤنی نہیں۔

’ہر فلمساز کا طریقہ کار دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔ کچھ کے لئے لوہے کا جنگلہ ہی جیل خانے کا کام دے جاتا ہے اور کچھ اصرار کرتے ہیں کہ سیٹ اور ماحول حقیقت سے قریب ترین ہو۔ یہ سیٹ لگانے سے پہلے میں کوٹ لکھپت جیل گیا تھا تاکہ وہاں کے ماحول کو اچھی طرح سمجھ سکوں’۔

اس دورے کے دوران یہ بھی ہوا کہ بابا خادم اور ان کے ساتھیوں کو نووارد سمجھ کر پرانے قیدیوں نے ہنسی مذاق کا نشانہ بنایا، لیکن کام کو درجہ کمال تک لیجانے کے لئے تھوڑا سا مذاق اڑوانے میں کیا مضائقہ ہے؟ اور کمال یہ تھا کہ جب انہوں نے ایک پھانسی گھاٹ کا سیٹ لگایا تو وہ اصل سے اس قدر مشابہہ تھا کہ بقول بابا خادم انہیں رات بھر نیند نہیں آئی کہ کہیں فلمی عملے میں سے کسی کی غلطی سے کوئی نقصان نہ ہو جائے۔

’صبح ہوتے ہی میں نے پروڈیوسر سے بات کی اور یہ جان کر کچھ تسلی ہوئی کہ سب ٹھیک رہا۔ پھر بھی مجھے تب تک اطمنان نہیں ہوا جب تک میں نے شوٹنگ ختم ہونے پر وہ سیٹ ڈھا نہیں دیا۔’

بابا خادم نے بات ختم کر کے سلاخوں کے پار سے میری جانب دیکھا جیسے یہ جاننا چاہتے ہوں کہ میں قائل ہوا یا نہیں۔ اتنے میں سیٹ پر کام کرنے والوں نے اپنے کیمرے اضافی اداکاروں پر فوکس کرنے کے بعد بتیاں بجھا دیں۔ اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا جس میں آس پاس جلنے والے سگریٹ جگنو کی طرح چمکنے لگے اور سلاخوں کو تھامے ہوئے میری ہتھیلیوں پر پسینہ آنے لگا۔

ایک پل کے لئے مجھے لگا جیسے میں دنیا سے دور کسی ویرانے میں بند ہوں لیکن دوسرے ہی لمحے دور سے آتے ایک رکشے کی پھٹ پھٹ سے میں حقیقت کی دنیا میں واپس آ گیا۔ ہمارے سیٹ کے بڑے اداکار ابھی تک نہیں پہنچے تھے اور عملے کے لوگ بیٹھے اضافی اداکاروں سے گپ شپ کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد