پشاور؟ میری توبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منیر حسین سرگودھا سے کاروبار کرنے چلا تھا اور آج وہ پشاور کی سینٹرل جیل کے منڈا خانے (بچہ جیل) میں نل کے سامنے بیٹھا اپنے کپڑے دھو رہا ہے۔ اس کی عمر سترہ برس ہے اور وہ اپنے باپ اور بھائی کے ساتھ مل کر سرگودھا کے چار بلاک میں ایک منیاری کی دکان چلاتا تھا۔ چند مہینے پہلے اس نے ایک دوست کو ساتھ لیا اور سرخی پاؤڈر قسم کا مال خریدنے پشاور آ پہنچا۔ گھومتے پھرتے یہ دونوں پولیس کی نظروں میں آ گئے۔ تلاشی پر منیر کی جیب سے دس ہزار روپے نکلے اور اس کے دوست سے چرس برآمد ہوئی۔ منیر کا کہنا ہے کہ پولیس والے صرف اس کے روپے ہضم کرنا چاہتے تھے لیکن اس کے شور مچانے پر انہوں نے دونوں کو تھانے میں بند کر دیا اور بعد میں ایک پر نقلی کرنسی کا کیس بنا اور دوسرے پر چرس رکھنے کا۔ دوست کی تو ضمانت ہو چکی ہے لیکن منیر ابھی تک اس امید میں جیل سے پیشیاں بھگت رہا ہے کہ ایک دن وہ بیگناہ بھی ثابت ہو جائے گا اور اس کے دس ہزار روپے بھی اسے واپس مل جائیں گے۔ اس کی والدہ فوت ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی گھر سے پکا پکایا کھانا مل جاتا تھا اور وقت پر کپڑے دھل جاتے تھے۔ چائے بنانے کے علاوہ منیر نے گھر کا کوئی اور کام کبھی نہیں کیا تھا۔ اب وہ کھانا بھی خود پکاتا ہے اور ہفتے میں دو بار کپڑے بھی دھوتا ہے۔ نل کے پانی تلے پکے فرش پر شلوار اور قمیص کو صابن لگا کر وہ انہیں آپس میں رگڑتا ہے اور پھر پانی میں بھگو کر نچوڑ لیتا ہے۔ ’اس طرح دھونے سے کپڑے اتنے صاف تو نہیں ہوتے جتنا گھر کی دھلائی میں، لیکن کام چل جاتا ہے’۔
اس کے آس پاس بہت سے ہمعمر ہیں لیکن چار ماہ میں کسی سے اس کی دوستی نہیں ہوئی۔ بس دو چار پنجابی لڑکوں سے میل جول ہے اور انہی کے ساتھ مل کر کھانا بھی پکاتا کھاتا ہے۔ بیشتر لڑکے پشتو بولتے ہیں اور منیر نے کبھی ان کی زبان سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ’دل ہی نہیں چاہتا کسی سے بات کرنے کو۔’ دن کے کچھ گھنٹے وہ جیل کے سکول میں گذارتا ہے جہاں وہ آٹھویں جماعت کی پڑھائی کرتا ہے اور کرکٹ بھی کھیلتا ہے۔ گھر میں اس نے آٹھویں جماعت سے سکول چھوڑ دیا تھا، لیکن اب اسے لگتا ہے جیل والے پڑھا کر ہی چھوڑیں گے۔ ’سوچتا ہوں کہ یہاں سے اگر آٹھویں جماعت ہی پاس کر لوں تو واپس جا کر شاید ٹیکنیکل سکول میں داخلہ مل جائے۔ ایسا ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ پشاور آنے اور پھر جیل جانے سے مجھے کچھ فائدہ ہی ہوا، نقصان نہیں’۔ لیکن اس سوال پر کہ سرگودھا واپس جا کر اگر سامان کی خریداری کے لئے اسے کہا گیا تو وہ کس جگہ کا انتخاب کرے گا، منیر ایک کھسیانی ہنسی سے جواب دیتا ہے: ’پشاور تو نہیں آؤں گا۔ میری توبہ - - - ’ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||