افسر میس سے بیرک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور سینٹرل جیل کی بی کلاس بیرک طالبعلموں کے ہوسٹل جیسی لگتی ہے، لیکن زیادہ صاف اور آرام دہ۔ قیدیوں کے لئے الگ الگ کمرے ہیں، جو ایک صحن میں کھلتے ہیں جس میں ایک بیڈمنٹن کا کورٹ بنا ہوا ہے اور بہت سی کرسیاں رکھی ہیں جن پر یہاں کے مکین بیٹھے مالٹے کھا رہے ہیں۔ ان میں ایک انجینئر ہے، ایک وکیل، دو ایک سرکاری افسر، اور چند کاروباری حضرات جن کی کلائیوں پر مہنگی گھڑیاں ہیں اور گلے میں سونے جیسی دھات کی زنجیریں۔ آخر الذکر افراد احتساب بیورو کی پکڑ میں ہیں۔ ان میں سے کچھ کو سزا ہو چکی ہے، باقی مقدمے بھگت رہے ہیں۔ یہیں پاک فضائیہ کے ایک سابق افسر الطاف عزت بھی ہیں جنہیں مالی بدعنوانی کے الزام میں کورٹ مارشل کے ذریعے چھ سال قید کی سزا ہوئی ہے، جس میں سے آٹھ نو ماہ وہ گزار چکے ہیں۔
الطاف کی روزمرہ مصروفیات افسر میس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں، فرق ہے تو یہ کہ یہاں دفتر نہیں جانا پڑتا۔ وہ کافی وقت نماز اور تلاوت میں گذارتے ہیں، پھر شام کی چائے ہوتی ہے، سیاست پر لمبی لمبی بحثیں ہوتی ہیں، اور ان ہی کی ترغیب پر بیرک کے صحن میں بنائے گئے بیڈمنٹن کورٹ میں گھنٹوں کھیل ہوتا ہے۔ اور ہاں خدمت کے لئے یہاں بھی ’مشقتی’ یا خادم موجود ہیں، جو سرکاری بیٹمین جتنے پھرتیلے تو شاید نہ ہوں لیکن خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ جیل کے عملے یا زور آور قیدیوں کی غلامی کرنے کی بجائے بی کلاس کے معزز قیدیوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس آرام دہ ماحول میں اگر کوئی مشکل ہے تو صرف یہ احساس ہے کہ یہاں سے جانا، اور کسی کا ملاقات کو آنا آپ کے اختیار میں نہیں۔ وقت گزاری کے لئے الطاف نے لمبی لمبی صورتیں یاد کرنی شروع کر دی ہیں اور اس وقت جو کتاب ان کے ہاتھ میں ہے وہ وظائف کا مجموعہ ہے جس میں سے بیشتر وظیفے وہ یاد کر چکے ہیں۔ ’یہاں آنے سے پہلے میں مذہب سے اتنا قریب نہیں تھا جس قدر موقعہ مجھے یہاں ملا ہے۔ ایسا نہیں کہ سب جیل میں یہی کرتے ہیں۔ کچھ غلط کاموں میں بھی پڑ جاتے ہیں۔ اپنے اپنے مزاج کی بات ہے۔’ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||