BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 April, 2004, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماں بہت یاد آتی ہے

پشاور جیل
معصوم خواہشات: پشاور جیل کے اہلکاروں کے بچے جیل کے احاطے میں کھیلتے ہوئے
پشاور جیل میں بچوں کی بیرکوں کو منڈا خانہ کہا جاتا ہے۔ یہاں بیشتر قیدی چودہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے ہیں جبکہ چند اس سے کم عمر بھی ہیں۔

اس بیرک میں بہت سے لڑکے دوپہر کے کھانے کے بعد ٹی وی پر موسیقی کا کوئی پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک حیدر خان بھی ہے جو باقیوں کی نسبت کچھ پریشان اور آزردہ دکھائی دیتا ہے۔

حیدر اس جیل میں سب سے کم عمر حوالاتی ہے۔ اس کی عمر بارہ برس ہے اور اس کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی جیل کی زندگی سے مانوس نہیں ہوا۔ اسے یہاں رہتے ہوئے ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے اور اس دوران اس کے بھائی اسے صرف ایک مرتبہ ملنے آئے ہیں۔ باپ زندہ نہیں اور ماں لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کرتی ہے۔

اس کا گھر چارسدہ میں ہے اور اس کے بقول اسے ایک بکری اور ایک بچھڑا چرانے کے الزام میں جیل لایا گیا ہے۔ وہ کہتا ہے اسے ایک بابا نے جانور لیجانے کو کہا تھا اور اس کے بدلے اسے کچھ پیسے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن جب وہ پکڑا گیا تو بابا بھاگ گیا اور سارا الزام اس پر آ گیا۔

میرا قصور؟
 ’اب جانور مالکوں کو مل چکے ہیں اور بعد میں ان لوگوں کے ساتھ صلح نامہ بھی ہو گیا لیکن میں ابھی تک جیل میں ہوں
حیدر خان

’اب جانور مالکوں کو مل چکے ہیں اور بعد میں ان لوگوں کے ساتھ صلح نامہ بھی ہو گیا لیکن میں ابھی تک جیل میں ہوں۔ میرا مقدمہ ابھی چل رہا ہے۔ پہلی پیشی پر میں نے چوری کا جرم قبول کر لیا کیونکہ یہاں جیل میں مجھے مار پیٹ کر ایسا کرنے کو کہا گیا تھا۔ اب میں پچھتا رہا ہوں کہ میں نے ایسا کیوں کیا - - -’

حیدر چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے اور اتنی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے کہ بڑا ہو کر محنت سے اپنی روزی خود کمانے کے قابل ہو سکے۔

اس کے چار بھائی ہیں جن میں سے دو بڑے ہیں اور شہر میں مزدوری کرتے ہیں۔ وہ اس سے ایک دفعہ ملنے آئے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے پھر نہیں لوٹے۔ شاید انہیں مزدوری سے فرصت نہ ملی ہو!

منڈا خانے کے بڑے لڑکوں سے حیدر خان کو کوئی شکایت نہیں۔ ’وہ مجھے تنگ نہیں کرتے، بلکہ میرا خیال رکھتے ہیں اور مجھے کھانے کو پھل بھی لا کر دیتے ہیں۔ لیکن بس مجھے ماں بہت یاد آتی ہے۔’ اور یہاں پہنچ کر اس چھوٹے سے مگر مضبوط بچے کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد