BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 July, 2004, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی جیلوں میں قید بچے

جیل
پاکستانی جیلوں میں گنجائش سے دوگنا افراد قید ہیں
پاکستان کی جیلوں میں مختلف الزامات کے تحت اٹھارہ برس سے کم عمر کے 2839 بچے قید ہیں جن میں سزائے موت پانے والے تیرہ بچے بھی شامل ہیں۔

یہ تفصیل نو جولائی کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے پارلیمینٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے پوچھے گئے سوال پر تحریری طور پر پیش کی گئی تھی۔

صوبہ پنجاب کی جیلوں میں قید بچوں کی تعداد باقی تینوں صوبوں سے زیادہ یعنی 1648 ہے، جن میں سزائے موت کاٹنے والے چار بچے بھی شامل ہیں۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق سزائے موت پانے والے سب سے زیادہ بچےصوبہ سرحد کی جیلوں میں قید ہیں اور ان کی تعداد سات ہے۔ یہاں دیگر جرائم کے تحت قید بچوں کی تعداد 313 ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں کل691 بچے قید ہیں لیکن ان میں سزائے موت پانے والا کوئی بچہ نہیں ہے۔

جبکہ صوبہ بلوچستان میں سزائے موت پانے والے دو بچوں سمیت691 بچے قید میں ہیں۔

پاکستان کی کل ستر جیلوں میں تقریباً 35000 قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن جیلوں میں موجود قیدیوں کی تعداد گنجائش کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے یعنی پاکستانی جیلوں میں تقریباً 80000 افراد قید ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں سزا یافتہ قیدی 25500 ہیں جبکہ زیر سماعت مقدمات میں قید رکھے جانے والے قیدیوں کی تعداد ان سے دگنی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد