BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 April, 2004, 16:58 GMT 21:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب کے قیدی

لاہور کیمپ جیل کے باہر
جیل حکام کے لیے بھی کوئی ایسا ہی ضابطہ اخلاق ہے؟
لاہور کی جیلیں میرے لئے بند ہیں۔ کوٹ لکھپت تو دور کی بات، مجھے لاہور شہر کی کیمپ جیل کے اندر جانے کی اجازت بھی نہیں ملی، جہاں زیر سماعت مقدمات کے ملزم اور نسبتاً کم خطرناک مجرم رکھے جاتے ہیں۔

ڈپٹی سے سپرٹنڈنٹ، پھر آئی جی جیل خانہ جات اور اس کے بعد سول سیکرٹیریٹ، ہر افسر نے مجھے اپنی مجبوری بتائی اور پھر کسی اور بڑے افسر کی طرف روانہ کر دیا۔ آخری انکار میں نے سیکرٹری داخلہ سے سنا لیکن میں ان کی مجبوری سمجھنے سے تب بھی قاصر تھا اور آج بھی ہوں۔ میں پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کی جیلوں میں جا چکا ہوں اور وہاں کے قیدیوں کے ساتھ باتیں ریکارڈ بھی کر چکا ہوں۔

کسی جیلر نے اتنی پابندی لگائی کہ کیمرہ ساتھ نہیں لیجا سکتے، کسی نے صرف موبائل فون ہی باہر رکھوایا۔ تو آخر پنجاب کی سرکار کے ساتھ ایسا کیا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کو کسی جیل میں بھی جانے کی اجازت نہیں دیتی؟ مجھے اس سوال کا جواب اگلے روز عدالت کے ’بخشی خانے’ میں ملا۔

بخشی خانہ پنجرہ نما کمروں کا ایک بلاک ہے جو ضلعی عدالت کے پچھواڑے میں بنایا گیا ہے۔ قیدیوں کو ٹرکوں میں بھر کر یہاں لایا جاتا ہے، اور باری آنے پر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی واپسی شام سے پہلے نہیں ہو پاتی، اس لئے دوست رشتہ دار ان قیدیوں سے ملاقات کے لئے یہاں چلے آتے ہیں۔

پنجاب کے قیدی
قیدیوں کو عدالت لیجانے والی بس

مجھے بخشی خانے کی راہ دکھانے والے بھی خود قیدی ہی تھے۔ کیمپ جیل کے افسران نے بہت منت سماجت کے بعد مجھے صرف اتنی اجازت دی کہ میں باہر سے جیل کی عمارت کی تصاویر بنا لوں۔ جس وقت میں اپنے کیمرے کے ساتھ عمارت کے باہر گھوم رہا تھا ٹھیک اسی وقت قیدیوں کو ٹرک میں بھرا جا رہا تھا، اور ادھر ملاقاتیوں کا آنا جانا بھی شروع ہو گیا تھا۔

قیدیوں میں سے ایک نے چند انچ کی جالی میں سے باہر جھانک کر اپنے کسی عزیز کو دیکھا تو چیخ چیخ کر اسے بتانے لگا: ’ضلع کچہری آ جاؤ وہاں آسانی سے ملاقات ہو جائے گی’۔ وہ شخص تو جانے وہاں پہنچا یا نہیں لیکن میں ایک ساتھی کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔

بخشی خانے میں بہت سے ملاقاتی آئے ہوئے تھے اور سب چلا چلا کر باتیں کر رہے تھے۔ حفاظت پر مامور پولیس اہلکار خاصے اچھے موڈ میں تھے اور جب تک کسی ایک پنجرے پر ہجوم نہ اکٹھا ہوتا وہ ملاقاتیوں کو اطمنان سے باتیں کرنے دیتے۔ کچھ ملاقاتی کھانے پینے کی اشیا بھی ساتھ لائے تھے، جو قیدیوں کے مطابق وہ جیل اہلکاروں کو کچھ پیسے دے کر اپنے ساتھ واپس لے جا سکیں گے۔

بخشی خانہ
لاہور ضلعی عدالت کا بخشی خانہ

یہاں قیدیوں اور حوالاتیوں نے جب اندر کے حالات بتانے شروع کئے تو مجھے جیل حکام کی ’مجبوری’ کا اندازہ ہونے لگا۔ بدنظمی، رشوت ستانی، خوراک چوری - - - الزامات کی ایک طویل فہرست تھی جو ان قیدیوں نے جیل اہلکاروں کے خلاف گنوائے۔

چھریرے بدن والا گڈا سائیں کہنے لگا: ’میں ایسا آدمی تھا کہ کوئی اوئے کہہ دے تو میں ڈر جاتا تھا،’ پھر آس پاس کھڑے پولیس والوں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا: ’لیکن جیل میں رہ کر اور ان لوگوں کا سلوک دیکھ کر اب میں کسی ڈپٹی سے ڈرتا ہوں نہ کسی ایس ایچ او سے۔ یہی لوگ ہیں جو ہمیں بدمعاش بناتے ہیں’۔

ایک اور شخص نے کہا کہ حوالاتیوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو قیدیوں کے ساتھ، حالانکہ قانون میں دونوں کے لئے الگ الگ رویہ متعین ہے۔

ذیشان نے کہا کہ انہیں ہر چیز کے لئے سپاہیوں کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہے، اور ایک اور حوالاتی نے آواز لگائی کہ وہ اس بات سے واقف ہے کہ قیدیوں کے لئے بننے والے کھانے کا بہتر حصہ افسران کے گھروں میں جاتا ہے اور بچا کھچا حصہ قیدیوں کو ملتا ہے۔

لیکن ایک قیدی کے اس مطالبے پر کہ ’صدر پاکستان پنجاب کی جیلوں کا دورہ کریں - - - ’ احمد جل کر ہاتھ جوڑتا ہے اور کہتا ہے ’خدا کے لئے انہیں کہیں کہ ان کی مہربانی ہو گی اگر وہ تکلیف نہ کریں کیونکہ جیل حکام تو اس دورے میں سب کچھ ٹھیک دکھا دیں گے لیکن جب بھی کوئی اہم آدمی جیل آتا ہے تو ہماری زندگی ضرور عذاب بنا دی جاتی ہے۔ ہم نماز کے لئے بھی بیرک سے باہر نہیں آ سکتے۔’

واقعی ایسے حالات میں، اور اتنے منہ پھٹ قیدیوں کی موجودگی میں ذرائع ابلاغ کو پنجاب کی جیلوں سے دور ہی رکھا جانا چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد