کراچی سنٹرل جیل کا چریا وارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سنٹرل جیل کے اندر ایک چھوٹا سا احاطہ ہے جس میں تین چار کوٹھڑیاں ہیں اور سامنے ایک برآمدہ ہے جس میں ایک ٹی وی رکھا ہے۔ دروازے کی سلاخوں سے جھانکتے ہوئے لوگوں کے سر مُنڈے ہوئے ہیں اور انہیں عام قیدیوں کی طرح احاطے میں گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں۔ قیدی اس جگہ کو ’سائیکیٹری وارڈ ‘ کہتے ہیں، جیل کا عملہ اور باقی قیدی اسے ’چریا وارڈ‘ کے نام سے جانتے ہیں، میرے اور آپ کے لئے یہ جیل کا وہ حصہ ہے جس میں ایسے مجرم اور ملزم رکھے جاتے ہیں جن کا دماغی توازن خراب سمجھا جاتا ہے۔ ان قیدیوں میں سے کچھ خود کو نفسیاتی مریض سمجھتے ہیں اور باقی اس سے انکار کرتے ہیں۔ جب جیل میں بند کسی عام آدمی کو پاگل قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کی دماغی صحت کچھ بھی ہو اس کے پاس پاگل بن جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ان میں سے کچھ لوگ ہر وقت خاموش رہتے ہیں، کچھ مسلسل بولتے رہتے ہیں، اور سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ وہ مسکراتے نہیں۔ محمد حنیف قتل کے مقدمے میں ملوث ہے اور وہ بتانا نہیں چاہتا کہ اس پر لگا یہ الزام درست ہے یا غلط کیونکہ ’اگر میں ساری بات بتاؤں گا تو جج مجھے پھانسی یا عمر قید دے سکتا ہے'۔ لیکن وہ اتنا اشارہ ضرور دیتا ہے کہ ’یہاں جو بھی آیا ہے کچھ کر کے ہی آیا ہے'۔
حنیف کو فلمی ہیرو بننے کا شوق ہے۔ اسی شوق میں اس نے گھر بار گنوایا، قتل کے کیس میں دھرا گیا اور کئی برسوں سے سائیکیٹری وارڈ میں بند ہے۔ وہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ ٹی وی پر اداکاری کا موقع حاصل کرنے کی کوشش میں ہی وہ کراچی جیل تک آ پہنچا ہے۔ لیکن اس کا عزم اب بھی قائم ہے۔ ’میں جب بھی باہر جاؤں گا دوبارہ ہیرو بننے کی کوشش کروں گا۔لیکن اس دفعہ میں کسی کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا'۔ اسے کئی بھارتی فلموں کے ڈائیلاگ یاد ہیں لیکن اس کا پسندیدہ ترین آئیٹم ہے فلم ’شعلے کا وہ حصہ جس میں امیتابھ بچن اپنے دوست (دھرمیندر) کا رشتہ لے کر ہیما مالنی کے گھر جاتا ہے۔ امیتابھ اور ہیما کی موسی(خالہ ) کے ادا کردہ مکالموں کا ایک ایک لفظ وہ صحیح جگہ پر ادا کرتا ہے، گو اس ادائیگی کے دوران وہ سانس لینے کا وقفہ بھی نہیں دیتا۔
جب اس کا آئیٹم مکمل ہو گیا تو اس کی کوٹھڑی کے باقی چھ ساتھیوں نے تالیاں بجا کر اس کو داد دی۔ تالی بجاتے ہوئے بھی ان کے چہرے بالکل سپاٹ ہیں۔ پھر ساتھیوں کی فرمائش پر اس نے گانا گانا شروع کیا ’دھوم مچانے آئے ہیں، دھوم مچا کے جائیں گے' جس کے الفاظ اور دھن، بقول حنیف کے اس کی اپنی تخلیق ہیں۔ حنیف کا گانا ختم ہوا تو برابر کی کوٹھڑی سے ایک اور صدا اُبھری۔ بہت سریلی آواز میں کسی نے ’تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے' چھیڑ دیا۔ یہ منور مسیح ہے۔ پچکے ہوئے گالوں اور منحنی بدن کا منور کراچی کی عیسیٰ کالونی کا رہنے والا ہے اور روزانہ اجرت پر مزدوری کرتا رہا ہے۔ اس کے مطابق ایک رات وہ عیسیٰ کالونی کی گلیوں میں گھوم رہا تھا تو اسے اٹھا کر ایک گاڑی میں ڈال دیا گیا اور تھانے لا کر اس پر آوارہ گردی کا کیس بنا دیا گیا۔ پچھلے چار سال سے وہ یہاں بند ہے اور پیشیاں بھگت رہا ہے۔ اس کی آواز میں بلا کا سوز ہے۔ اور شاید اسی لئے اس کا پسندیدہ گلوکار عطااللہ عیسیٰ خیلوی ہے جس نے پنجابی لوک موسیقی کو رقت آمیز گائیکی سے روشناس کرایا تھا۔ منور کو عطااللہ کے کئی گانے یاد ہیں اور وہ اپنی اور ساتھیوں کی تفریح کی خاطر اکثر انہیں گنگناتا رہتا ہے۔
ایسا نہیں کہ یہاں سبھی فنکار ہیں۔ سرفراز احتشام کو صرف لڑنے کا شوق ہے۔ اصل میں وہ پاکستانی فوج میں بھرتی ہو کر بھارت سے لڑنا چاہتا تھا لیکن جب یہ نہ ہو سکا تو اس نے آس پاس کے لوگوں کو ہی پیٹنا شروع کر دیا۔ اب وہ ایک بینک ڈکیتی کے سلسلے میں زیر حراست ہے۔ سرفراز ایک مضبوط بدن کا نوجوان ہے اور دوسروں کے علاوہ خود کو اذیت دینے کا بھی لطف لیتا ہے۔ وہ بہت فخر سے بتاتا ہے کہ اس نے ایک پولیس والے سے لڑائی کی اور جب تھانے لایا گیا تو ’چھتر مارنے والا تھک گیا لیکن میں نے ایک آواز نہیں نکالی'۔ ہاں اسے تکلیف ہے تو اس بات سے کہ جیل میں کچھ لوگوں نے اس کے ساتھ زبردستی جنسی فعل کیا۔ فوجی بننے کی خواہش اس پر اب بھی حاوی ہے اور وہ اس کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ فوجی کا جو تصور اس کے ذہن میں ہے وہ ایک باوردی اور پاک صاف انسان کا ہے جسے سب سیلوٹ کرتے ہیں، جو ضرورت پڑنے پر دشمن سے لڑتا ہے، اور جس کے ساتھ زبردستی زنا نہیں ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||