گوانتاناموبے: امریکہ پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے میں قید ایک برطانوی فیروز عباسی کے خاندان نے قیدیوں کے معاملات پر نظر ثانی کے لئے امریکی فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔ مذکورہ خاندان کی وکیل لویز کرسٹائن نے کہا ہے کہ نظر بندوں کے لئے نظامِ انصاف کی عدم موجودگی میں اس طرح کی نظر ثانی سے بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ برطانوی بھی ان چھ سو پچاس قیدیوں میں شامل ہے جنہیں امریکہ نے کسی مقدمے کے بغیر گوانتاناموبے میں رکھا ہوا ہے۔ حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں نے بارہا ان قیدیوں کو الزامات سے آگاہ نہ کئے جانے اور ان پر مقدمات نہ چلائے جانے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ فیروز عباسی خاندان کی وکیل کرسٹائن کا کہنا ہے کہ جب تک قیدیوں کو یہ ہی معلوم نہیں ہوگا ان پر الزام کیا ہے تو وہ نظر ثانی کرنے والے بورڈ کے سامنے جا کر کیا کریں گے۔ بی بی سی آن لائن سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ یہ قانونی تقاضوں کی طرف رتی بھر پیش رفت بھی نہیں اور اسے تو کسی بھی طرح انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کی ادنیٰ سی کوشش بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وکیل نے کہا کہ اگر عباسی کو ایسے کسی بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ عباسی کو اپنے وکیل تک رسائی ہی میسر نہیں تو وہ اس کی کیا مدد کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ تو ایک سیدھی سیدھی اور محض انتظامی نظرثانی ہے جو ایک ایسا سیاستداں کر رہا ہے جو اس بات کا فیصلہ کر چکا ہے کہ قیدیوں کو قید ہی رکھا جانا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||