| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بم بنانے میں مدد: عمر قید کی سزا
اکتوبر دو ہزار دو میں بالی میں ہونے والے دھماکوں میں بم بنانے میں مدد دینے والے اسلامی شدت پسند کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سرجیو جنہیں سواد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، براہِ راست بالی نائٹ کلب بم حملوں میں ملوث نہیں تھے اسی لئے انہیں سزائے موت کی بجائے عمر قید ہوئی ہے۔ سرجیو کی عمر بتیس سال ہے اور ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ پہلے مسیحی تھے لیکن بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اب تک تین افراد کو سزائے موت اور بیس سے زیادہ لوگوں کو قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ بالی بم حملے میں دو سو سے زیادہ افراد جن میں سے اکثریت غیرملکیوں کی تھی اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب بالی کے پُر ہجوم نائٹ کلب کو بم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سرجیو عمر قید کی سزا پانے والی تیسرے شخص ہیں اور ان افراد کا تعلق شدت پسند اسلامی تنظیم جمیعۃ اسلامیہ سے جوڑا جاتا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ القاعدہ کی رکن تنظیم ہے۔ جب عدالت نے سرجیو کوعمر قید کی سزا سنائی تو انہوں نے فوراً کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ججوں کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ انہوں نے ’ساری کلب‘ میں ہونے والے دھماکے میں جو سخت ترین دھماکہ تھا، کیماوی مواد کی آمیزش کی تھی اور یہ مواد اس گاڑی کے پچھلے حصے میں رکھا تھا جو دھماکوں میں استعمال ہوئی تھی۔ ایک جج کا کہنا تھا کہ ملزم نے ندامت کا اظہار تک نہیں کیا حالانکہ اس نے بم بنانے میں مدد فراہم کی جس کے باعث سیکنڑوں لوگ مارے گئے اور بالی کی بربادی ہوگئی۔ اگرچہ بالی کلب میں بم حملے کرنے والے گروپ کے اکثر اراکین گرفتار ہو چکے ہیں لیکن تا حال دو اہم مشتبہ افراد جنہوں نے بم بنائے تھے پکڑے نہیں گئے ہیں۔ ان دونوں افراد کو گزشتہ برس اگست میں جکارتہ کے میریٹ ہوٹل پر حملے میں بھی ملوث سمجھا جاتا ہے جس میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||