’لاپرواہ ماں‘ کو قید کی سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مانچیسٹر میں ایک ماں کو سال بھر سےکچھ بڑی بیٹی کو گاڑی میں بند کر کے موج میلہ کرنےنائٹ کلب جانے پر تین ماہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ بیس فروری کو رات ساڑھے نو بجے اٹھائیس سالہ کی کرسٹینا رباس اپنی اٹھارہ ماہ کی بچی کو گاڑی میں بند کرکے نائٹ کلب چلی گئیں تھیں اور جب صبح ہونے کے قریب وہ نشے کی حالت میں واپس لوٹیں تو کلب کے دربان نے انہیں روکا کہ وہ اس حالت میں گاڑی نہ چلائیں۔
اسی دوران کلب کے دربان نے یہ بھی دیکھا کہ ایک شیر خوار بچہ بھی بند گاڑی میں موجود ہے۔ ان کی اس لاپرواہی پر مانچیسٹر کے مجسٹریٹ نے ان کو تین ماہ کی سزا سنائی ہے۔ ڈسٹرکٹ جج نے عدالت کو بتایا کہ ’یہ سراسر خودغرضی ہے نہ اس سے کچھ کم اورنہ ہی اس سے کچھ ذیادہ‘۔ مس رباس جو پرتگالی قومیت رکھتی ہیں انہوں نے اپنے غیرذمہ دارانہ روئیے کو تسلیم کیا ہے کہ وہ اس طرح اپنی اٹھارہ ماہ کی بیٹی پر ظلم کی مرتکب ہیں۔ اور جب ان سے گاڑی کی چابی لینے کی کوشش کی گئی تو مس رباس غصے میں آ گئی تھیں۔ تاہم ان کو گرفتار کرنے کے بعد بچی کو اس کے سوتیلے ماں باپ کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ’ جو کچھ میری موکل سے ہوا وہ ایک لغزش سے ذیادہ کچھ نہیں تھا‘۔ جج نے مقدمے کی سماعت کے بعد سزا سناتے ہوۓ کہا کہ ’ میرے دس برس کے اس تجربے میں والدین کی لاپرواہی کی یہ سب سے شرمناک مثالوں میں سے ایک ہے‘۔ مجسٹریٹ نے مذید کہا کہ’جو کچھ تم نےکیا وہ اپنی مادرانہ جبلتوں کو بالاۓ طاق رکھ کے کیااور صرف اس لۓ کیا کہ تم اپنا وقت موج مستی سے گزار سکو‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||