چار پولیس والوں کو عمر قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر کلکتہ میں پانچ پولیس والوں کو اپنے ایک ساتھی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پانچ پولیس والوں نے اپنے ساتھی پر تب حملہ کیا جب وہ انہیں ایک خاتون کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 31 دسمبر 2002 کو پولیس مین باپی سین کو ان کے پانچ ساتھیوں نے لکڑی اور لوہے کی لاٹھیوں سے بری طرح مارا تھا اور کچھ دن بعد انہوں نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ کئی اپیلوں کے باوجود وہ شادی شدہ خاتون، جن کے ساتھ بدتمیزی کی گئی تھی، گواہی دینے سامنے نہیں آئیں۔ باپی سین کے قتل نے سارے شہر کو چونکا دیا تھا اور پولیس کو نئی تربیت دینے کی بھی مانگ کی گئی تھی۔ مدھوسودھن چکربرتی، پیجوش گوسوامی، سریدم باورے، شیخ مجیب الرحمان اور سیکھر بھوسن مترا کو باپی سین کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ حملے کے وقت وہ شراب کے نشے میں تھے۔ کلکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار سبیر بھومک کا کہنا ہے کہ کلکتہ پولیس کا شمار ایک زمانے میں بھارت کی بہترین پولیس میں کیا جاتا تھا، مگر حال ہی میں فورس میں ڈسپلن کو لے کر شدید مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں شہر کے پولیس والوں کے خلاف رشوت خوری اور شہریوں پر حملوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ حقوق نسواں کی تنظیموں نے کہا ہے کہ کلکتہ کی پولیس کو نئی تربیت دینی چاہئے۔ یہ مقدمہ پچھلے سال جون میں شروع ہوا تھا، مگر جس عورت کو تنگ کیا گیا تھا، ان کی گواہی کے بغیر ملزموں کو سزا دلانا مشکل ہو گیا تھا۔ باپی سین کی بیوی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عورت بزدل تھی، کیونکہ وہ مجرموں کے خلاف گواہی دینے عدالت نہیں آئی۔ مگر سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شاید وہ عورت سماج میں بدنام ہونے کے ڈر سے سامنے نہ آئی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||