سرگودھا جیل میں ہنگامہ، 9 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرگودھا جیل میں قیدیوں اور سرکاری اہلکاروں کے مابین ہونے والے تصادم میں نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار شاہد ملک نے محمکہ جیل خانہ جات کے ایک ڈی آئی جی کے حوالے سے بتایا ہے کہ رات گئے حالات پر قابو پا لیا گیا ہے اور تمام قیدی اپنی بیرکوں میں واپس چلے گئے ہیں۔ جیل میں ہنگامے جمعرات کے روز اس وقت پھوٹ پڑے جب قیدیوں نے اپنے ایک انہتر سالہ ساتھی اشرف علی خان کی موت پر یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ یہ شخص جیل میں تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔ حکام کے مطابق قیدیوں نے ہنگامے کے دوران جیل کی ایک زیر تعمیر عمارت سے اینٹیں اٹھا کر جیل کے عملے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عملے کے سات ارکان زخمی ہو گئے۔ ساتھ ہی ساتھ دو قیدیوں کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ سرگودھا کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس فیاض احمد میر کے مطابق احتجاجی قیدیوں کو کٹنرول کرنے کے لیے جیل کے احاطے میں داخل ہونے والے پولیس اہلکار غیر مسلح تھے اس لیے فائرنگ کے تبادلے سے متعلق سامنے آنے والی تمام اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ہنگامے کو روکنے کے لیے آنسوگیس کا استعمال کیا گیا ہے۔ سرگودھا کے ضلعی ناظم امجد نون نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کی بیوہ کی درخواست پر تشدد سے ہلاکت کے الزام پر مبنی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات عبدالستار عاجز نے، جو احتجاج کرنے والے قیدیوں کے ساتھ حکام کی بات چیت کی نگرانی کرتے رہے، رات دو بجے مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی تصدیق کر دی۔ سرگودھا جیل سے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے مطالبے پر انہیں یہ یقین دہانی کرا دی گئی ہے کہ حکومت جیل میں ہنگامہ کرنے پر ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||