BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2003, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈونگہ بونگہ کے بعد پاک پتن

سنیچر کی صبح پاکپتن شہر میں ایک طالبعلم بس کے نیچے آک ہلاک ہوگیا جس کے بعد سکول اور کالج کے طلبا نے شہر میں چند گھنٹے تک احتجاج کیا اور دکانوں اور سرکاری عمارتوں کی زبردست نقصان پہنچایا۔

بہاولنگر کے قصبہ ڈونگہ بونگہ میں دو روز پہلے طلبا کے احتجاج کے بعد یہ پنجاب کے کسی شہر میں دوسرا بڑا واقعہ ہےجس میں طلبا نے شدید احتجاج کرتے ہوۓ سڑکوں کا رخ کیا ہے۔

پاکپتن پولیس کے ایڈیشنل ایس پی قاسم نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح ساڑھے سات بجے کے قریب پاکپتن شہر میں امر سنگھ بس اڈہ پر طلباء ایک بس میں سوا ہوکر سکول جانا چاہتے تھے۔ لیکن بس ڈرائیور انہیں بٹھانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ طلبا زیادہ ہیں اور بس میں گنجائش کم۔

پولیس افسر کے مطابق اڈہ منیجر ذوالفقار نے ڈرائیور کو اتار کر اس کی جگہ خود بس چلانا شروع کردی او طلبا پر بس چڑھا دی جس سے ایک ساتویں جماعت کا طالبعلم محمد عمران ولد لال دین ہلاک ہوگیا اور تین طالبعلم منظور احمد، محمد عمران اور محمد اشرف زخمی ہوگۓ۔

حادثہ کی اطلاع ملنے پر شہر کے چالیس پچاس طلبا جمع ہوگۓ اور انھوں نے لاٹھیوں سے مسلح ہوکر جلوس نکالا اور جنرل بس اسٹینڈ اور دیگر بسوں کے اڈوں پر کھڑی بسوں کو نقصان پہنچایا اور ایک بس کو آگ لگا دی۔ جب طلبا نے پاس کھڑی ایک پولیس کی بس کو توڑا پھوڑا تو پولیس کو واقعہ کی اطلاع ہوئی۔

طلبا نے شہر میں تمام بازاروں میں زبردستی دکانوں کو بند کرانا چاہا اور کئی دکانوں کے شیشیے توڑ دیے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور تحصیل آفس میں بھی طلبا نے توڑ پھوڑ کی اور متعد دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں۔

طلبا ایک گھنٹے سے زیادہ شہر میں توڑ پھوڑ کرتے رہے۔ پولیس نے سات طلبا کو گرفتا رکر لیا ہے اور باقی بھاگ گۓ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اڈہ منیجر ذوالفقار کے خلاف قتل عمد کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور وہ رات تک گرفتار کرلیا جاۓ گا۔

پنجاب کے شہروں میں طلبا سکول کالج جانے کے لیے بغیر ٹکٹ کے بسوں میں سفر کرتے ہیں جس سے طلبا اور بس مالکان کے درمیان کشیدگی ہوتی رہتی ہے۔

دریں اثناء ڈونگہ بونگہ میں تھانے دار کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے تھانے دار نے تباہ شدہ تھانے کی عمارت کا جائزہ لیا اور قصبے کے لوگوں سے مسجد کے لاوڈ اسپیکر پر امن قائم کرنے کی اپیل کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی نےعلاقے میں جلسہ کیا اور پولیس اور مقامی انتظامیہ کے خلاف تقریریں کئیں۔

تاہم ابھی تک پولیس کا دیگر عملہ قصبے میں داخل نہیں ہوا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد