| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی جی پنجاب کی عدالت میں طلبی
گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید افتخار حسین شاہ نے اس سال جولائی میں سیالکوٹ جیل میں قیدیوں اور پولیس کے درمیان مقابلہ میں ججوں کی ہلاکت کے واقعہ کا چالان پیش نہ کیے جانے پر پنجاب کی پولیس کے سربراہ کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ جمعہ کو سماعت کے بعد عدالت نے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس سیدمسعود شاہ کو آٹھ دسمبر کو مقدمہ کے ریکارڈ سمیت ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ جمعہ کو مقدمہ کی سماعت میں شرکت کے لیے سیالکوٹ میں جیل پر قیدیوں کے قبصہ چھڑانے کے دوران میں ہونے والی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ججوں کے ورثا صوبہ کے مختلف شہروں سرگودھا، مظفرگڑھ اور اسلام آباد سے گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں آۓ ہوۓ تھے۔ عدالت میں قصور کے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) غلام محمد کلیار نے عدالت میں کہا کہ آئی جی پنجاب کی مقرر کردہ تفتیشی ٹیم کے نگران ڈپٹی انسپکٹر پولیس طارق سلیم ڈوگر نے حکومت کو یہ درخواست بھجوائی ہے کہ چونکہ مقتول ججوں کے ورثا نے تفتیشی ارکان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اس لیے تفتیش تبدیل کرکے کسی اور کے سپرد کی جاۓ۔ انھوں نے کہا کہ اس درخواست پر آئی جی پولیس پنجاب نے مقدمے کی فائل منگوا کر اپنے پاس رکھ لی ہے۔اس لیے جمعہ کو عدالت میں ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ ڈی پی او کلیار کے بیان پر جج نے سوال کیا کہ تفتیش تو پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے اب تبدیل کیوں کی گئی۔ جج نے کہا کہ آئی جی پنجاب بتائیں کہ تفتیش کیوں تبدیل کی جارہی ہے۔ اس موقع پر ہلاک ہونے والے ایک جج شہریار بخاری کے والد سید غلام عباس نے، جو وکیل بھی ہیں، کہا کہ استغاثہ نے سارے مقدمہ کا ستیاناس کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ اس مقدمہ کے مقتولین، زخمی ہونے والے اور مدعی سب جج ہیں ، انصاف مانگنے والے ججوں کے ورثا ہیں اور جس سے انصاف مانگا جارہا ہے وہ بھی جج ہے پھر بھی اگر ججوں کے ساتھ یہاں یہ ہورہا ہے تو عام آدمی کو یہاں کیا انصاف ملے گا۔ آج عدالت میں اس وقت خاصی جذباتی فضا بن گئی جب ہلاک ہونے والے جج کے والد غلام عباس نے کہا کہ ججوں کی ہلاکت کے واقعہ کو چار ماہ گیارہ دن ہوچکے ہیں اور چالان پیش نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے انسداد دہشت گردی کے قانون کو بھی بے بس کردیا ہے۔ انھوں نے جج کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا کہ جناب والا کچھ کریں کہ ایک منصف کا باپ دوسرے منصف سے انصاف مانگ رہا ہے۔ غلام عباس بخاری نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعہ انیس کے تحت مقدمہ کا چالان سات دن میں عدالت میں بھجوانا ضروری ہے اور اعتراض لگاۓ جانے کی صورت میں صرف دو روز کی مہلت دی جا سکتی ہے اس سے زیادہ کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چالان بھجوانے کے لیے اس قانون کے تحت پبلک پراسیکیوٹر یا ڈسٹرکٹ اٹارنی کی تصدیق کی بھی ضرورت نہیں۔ ایک اور وکیل خورشید احمد سوڈھی نے جج سے کہا کہ سیالکوٹ کے سول لائنز تھانہ کے ایس ایچ او کو ابھی گرفتار کرکے جیل بھجوایا جاۓ تو کل ہی چالان آجاۓ گا۔ مقدمہ کے مدعی اور سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج محمد یوسف اوجلہ نے کہا کہ اس مقدمہ میں ملزمان کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے یہ عدلیہ اور پولیس کا ٹکراؤ ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ انھوں نے انسداد دہشت گردی کے جج سے کہا کہ اب تک کی تفتیش میں جو ملزمان نامزد ہوۓ ہیں وہ ان کی فوری گرفتاری کے احکامات صادر فرمائیں۔ سیشن جج اوجلہ نے کہا ان کی لڑائی ڈی آئی جی پولیس ملک اقبال، جنھوں نے سیالکوٹ جیل پر قیدیوں کے قبضہ کے خلاف پولیس کی کاروائی کی سربراہی کی تھی، یا کسی فرد سے نہیں بلکہ صرف ان کی یہ استدعا ہے کہ جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے انہیں گرفتار کیا جاۓ۔ انھوں نے جج سے کہا کہ وہ آرٹیکل تین سو انیس کے تحت ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں۔ یاد رہے کہ سیالکوٹ کے واقعہ میں ججوں کے ورثا نے پولیس کی کاروائی کا حکم دینے والے اس وقت کے ڈی آئی جی گوجرانوالہ ملک اقبال اور جیل پر قبضہ کرنے والے قیدیوں پر فائرنگ کرنے والے ایس ایچ او انسپکٹر ذوالفقار ورک کو یرغمال ججوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان دونوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||