BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 May, 2004, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز کے حامی جیل میں بند

مسلم لیگ
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گیارہ مئی کو شہباز شریف کے اسقتبال کے لیے جمع ہونے کے الزام میں گرفتار مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے اڑھائی سو سے زیادہ رہنماؤں اور کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ میں گرفتار ہونے والے بیس سے زیادہ مسلم لیگی رہنماؤں کی بازیابی کے لیے حبس بےجا کی ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔

بدھ سہ پہر دھرم پورہ لاہور میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج گلزار احمد کے سامنے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ کے کارکن اور وکیلوں کی ایک بڑی تعدا جمع ہوگئی جسے پولیس نے عدالت کے احاطہ میں داخل نہیں ہونے دیا۔

ایک وکیل ایم ایم عالم چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ تین سو سے زیادہ لوگ گرفتار ہیں جن پر مختلف تھانوں میں انسداد ہشت گردی کی مختلف دفعات اور سولہ ایم پی او کے تحت مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔

مسلم لیگ کے کارکنوں کی طرف سے مختلف وکلاء پیش ہوئے جنھوں نے گرفتار ہونے والوں کی ضمانت کی درخواستیں جمع کرائیں۔

ایک وکیل سراج الاسلام نے بتایا کہ عدالت نے ان گرفتار ہونے والوں کا جسمانی ریمانڈ نہیں دیا بلکہ انھیں عدالتی ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل لاہور بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

اب کل جمعرات کوعدالت ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کرے گی جس کے لیے اس نے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

جن لوگوں کو آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ان میں احسن اقبال، انعام اللہ نیازی، نادر پرویز، خواجہ آصف، ذوالفقار کھوسہ، چودھری نثار، خواجہ حسان اور وکیل نصیر بھٹہ وغیرہ شامل ہیں۔

پانچ کارکنوں کے نام ایف آئی آر میں درج نہیں تھے جنھیں وکلا نے کہا کہ انھیں جیل نہیں بھجوایا جاسکتا۔ اس پر ایک ایس ایچ اور او روکلا کے درمیان جھڑپ ہوگئی اور پولیس نے عدالت کےد روازے بند کرکے وکلا کو باہر جانے سے روک دیا۔

بدھ کو پیپلز پارٹی کی ساجدہ میر اور سابق جج لاہور ہائی کورٹ طلعت یعقوب کو بھی اسی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر ساجدہ میر نے اپنے خلاف دہشت گردی کا پرچہ درج ہونے پر کہا کہ آئین توڑنے والے دہشت گرد نہیں ہیں جبکہ آئین بچانے والے دہشت گرد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کی بحالی اور بے نظیر بھٹو کی ملک واپسی کے لیے لڑائی لڑ رہی ہیں۔

سابق جج لاہور ہائی کورٹ طلعت یعقوب نے کہا کہ اگر نعرے لگانا دہشت گردی ہے تو وہ روز نعرے لگائیں گی۔

دوسری طرف تہمینہ دولتانہ ، میمونہ ہاشمی ، ایاز صادق اور دوسرے مسلم لیگی رہنماؤں کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں ایک حبس بے جا کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد