رکنِ اسمبلی ایوان میں رو پڑیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت عجیب صورتِ حال پیدا ہوگئی جب پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکنِ اسمبلی شرف النساء لغاری ایوان میں بات کرنے کا موقع نہ ملنے پر رو پڑیں۔ شرف النساء ایوان میں آصف زرداری کی لاہور آمد کے موقع پر پارٹی کارکنوں کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف تحریک التوا پر بولنا چاہ رہی تھی- لیکن سپیکر سید مظفر حسین شاہ نے انہیں بولنے کی اجازت نہ دی- نتیجہ یہ ہوا کہ پی پی کی رکنِ صوبائی اسمبلی دل برداشتہ ہوگئیں اور اپنی تحریک پر بات نہ کر سکنے کے دکھ کی وجہ سے انہوں نے رونا شروع کر دیا۔ یہ تحریک التواء خواتین ایم پی ایز فرحین مغل، سسئی پلیجو اور شرف النساء لغاری نے پیش کی تھی- وزیر قانون نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے اور جو بھی قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائےگی- سپیکر نے کہا کہ شرف السناء کو پھر کسی وقت بولنے کا موقع دیا جائےگا جس پر شرف النساء رو پڑیں اور ایوان سے اٹھ کر باہر چلی گئیں- بعد میں مخدوم امیں فہیم کے صاحب زادے مخدوم جمیل الزماں جو پی پی کے ایم پی اے بھی ہیں اور سسئی پلیجو بھی ایوان سے اٹھ کر چلے گئے- تاہم سپیکر کی اس یقین دہانی کے بعد شرف النساء کو منا کر ایوان میں واپس لایا گیا کہ انہیں بدھ کو آدھا گھنٹہ بولنے دیا جائےگا- شرف النساء نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک تو لاہور میں خواتین سیاسی کارکنوں پر تشدد کیا گیا ’پھر ہم ایوان کے اندر اس پر بات کرنا چاہتے ہیں تو بولنے نہیں دیاجاتا- اگر ایم پی اے کو انصاف نہیں مل سکتا تو باقی عام آدمی کو انصاف کی کیا توقع ہو سکتی ہے-‘ اپنے رونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ دل برداشتہ ہوگئی تھیں اس لیے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||