پولیس تشدد پر سندھ میں احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی شہروں میں عاصمہ جہانگیر اور انسانی حقوق کی تنظیم کے کارکنوں پر لاہور میں تشدد اور ان کی گرفتاری کے خلاف اتوار کے روز احتجاج کیاگیا ۔ کراچی میں پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرے کو عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، نامور لوک گلوکارہ زرینہ بلوچ، پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر اور پاکستان لیبر پارٹی کے رہنما نثار احمد نے خطاب کیا۔ ان رہنماؤں نے لاہور پولیس پر سخت غم غصے کا اظہار کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے صدر پرویز مشرف کی اعتدال پسندی کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نہ کہا کہ موجودہ حکومت متعصب حکومت ہے ایچ آر سی پی نے ایک ٹیسٹ کر کے حکومت کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔ لاہور میں سنیچر کو پولیس نے علامتی میراتھن منعقد کرنے پر انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی چئرپرسن اور سکریٹری جنرل اقبال حیدر سمیت کئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اورگرفتار کیا تھا۔ میرپورخاص میں انسانی حقوق کمیشن کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور تشدد کے ذمہ دار افراد اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ٹھٹہ میں پی پی کی رکن سندھ اسمبلی حمیرا علوانی کی قیادت میں مظاہرہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ حیدرآباد، سانگھڑ اور روہڑی میں بھی انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے مظاہرے کیے جن میں حکومت کی نام نہاد روشن خیالی کی مذمت کی گئی ہے۔ مقررین نے سوال کیا کہ جب انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مرکزی عہدیداروں کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو عام آدمی کو اظہار کی کتنی آزادی حاصل ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||