’میراتھن :حملہ آور قبائلی تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ میں میراتھن ریس پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزمان میں سے چالیس کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے۔ وہ جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے پیش کی گئی ایک تحریک التواء کا جواب دے رہے تھے۔ گوجرانوالہ میں اتوار کے روز میرا تھن پر متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں کے مبینہ حملے اور توڑ پھوڑ کے دوران ہونے والی فائرنگ میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے اور میراتھن بھی نہیں ہوسکی تھی۔ صوبائی وزیر قانون نے بتایا کہ اس روز تینتالیس افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں سے صرف تین کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور باقی افراد کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی ،صوابی اور ٹانک سے ہے۔ انہوں نے ان گرفتار ملزمان کے نام پتوں کی فہرست بھی ایوان کو فراہم کی۔ انہوں نےسوالیہ انداز میں کہا کہ اگر گوجرانوالہ کے لوگ کھیلوں کے مخالف تھےاور معاملہ صرف احتجاج کا تھا تو متحدہ مجلس عمل نے قبائلی علاقوں سے حملہ آور کس کے لیے منگوائے تھے؟ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کی قیادت کو اس مبینہ دہشت گردی کا جواب قانون کو بھی دینا ہوگا اور عوام کو بھی دینا ہوگا۔ صوبائی وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ ان گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ ، ایکسپلوژو ایکٹ، اقدام قتل، پولیس مقابلہ اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد سے جدید اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی احسان اللہ وقاص نے کہا کہ اس سے پہلے اپوزیشن کے پانچ اراکین رانا ثناءاللہ خاں، ارشد محمود بگو،سید احسان اللہ وقاص، سیدوسیم اختر، احسان الحق احسن نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئےِ کہا کہ دو اپریل کی مجلس عمل کی ہڑتال کے بعد صوبہ بھر میں دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے جن میں نامعلوم ملزمان نامزد کیے گئے۔ اب ان نامعلوم افراد کی آڑ میں جھوٹے مقدمات میں سیاسی مخالفین کو گرفتار کرکے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں ایک سابق رکن قومی اسمبلی میاں منان کو بھی ایسے ہی مقدمہ میں گرفتار کیا گیا حالانکہ ایک سابق رکن اسمبلی کس طرح نامعلوم کے کھاتے میں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوب الزمان بٹ سمیت دو افراد ایسے ہیں جو دو روز پہلے سے گرفتار تھے اور پولیس نے ان کی گرفتاری دو اپریل کی ہڑتال میں ڈال دی ہے۔ صوبائی وزیر قانون نے کہاکہ انہوں نے صوبہ بھر سے گرفتار شدگان کی فہرستیں اور دیگر تفصیلات منگوائی ہیں جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے تفصیلات آنے تک تحریک مؤخر کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||