میراتھن: سندہ اسمبلی میں احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں میراتھن ریس پر پولیس تشدد کے خلاف سندہ اسمبلی کا ایوان آج شیم شیم کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اپوزیشن ارکان بحث کی اجازت نے ملنے پر شدید احتجاج کر رہے ہیں۔ شور شرابا بڑھنے کے بعد اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔ اپوزیشن رہنما نثارکھوڑو، ایم پی اے شازیہ مری، عرفان شاھ، مہرین بھٹو اور سکندر مندہرو کی جانب سے تحریک التواء پیش کی گئی۔ اسپیکر سید مظفر حسین شاھ نے آؤٹ آف ٹرن تحریک پیش کرنے کے لیے ایوان سے اجازت طلب کی جس پر ووٹنگ کرائی گئی اور تحریک دس ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کردی گئی۔ جس پر پی پی پی کے ارکان اسمبلی نے اپنی سیٹوں سے اٹھ کر شور مچانا شروع کردیا۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایم ایم اے کے ممبر غیرجانبدر رہے۔ ایم ایم اے کے پارلیمانی رہنما شجیح نے کہا کہ وہ عورتوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہیں مگر وہ عورتوں کی میراتھن کے مخالف ہیں۔ وزیر قانون چودھری افتخار نے کہا کے یہ واقعہ پنجاب میں پیش آیا ہے اس لیے یہاں اس پر بحث نہیں کی جاسکتی اگر کسی کو شوق ہے تو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلوایا جائے۔ اس دوران پی پی پی کے ممبر شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے اور اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔ اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک خاتون کے کپڑوں کو تارتار کیا گیا اور خود کو پروگریسو کہنے والے گردن نیچے کر کے بیٹھے رہے جو شرمناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور ڈاکٹر شازیہ معاملے پر حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کی دھمکیاں دینے والے عاصمہ جہانگیر پر تشدد پر کیوں خاموش ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||