سندھ کا بجٹ جمعہ کو شام پانچ بجے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئندہ مالی سال کے لیے سندھ کا بجٹ جمعہ کو شام پانچ بجے پیش کیا جائےگا۔ سندھ کے وزیر خزانہ سید سردار احمد نےبتایا کہ اس بجٹ میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو دی جا رہی ہے اور امن وامان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر، سڑکیں تیسرے نمبر پر اور صحت چوتھے نمبر پر ہے۔ سندھ پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جہاں ملک کی تیئس فیصد سے زیادہ آبادی رہتی ہے۔ جس کا تقریبا 49 فیصد شہروں میں رہتا ہے۔ محکمہ شماریات کے رپورٹ کے مطابق قومی جی ڈی پی کا انتیس فیصد سندھ سے آتا ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ غریب دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی اثاثے ہیں، نہ ہی کوئی جائیداد جب کہ آمدنی کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک نے اپنی حالیہ رپورٹوں میں نشاندہی کی ہے کہ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں غربت بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے متوسط طبقہ کم ہو رہا ہے۔ ان دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق سندھ میں انیس سو نوے کے عشرے میں غریبوں کی تعداد پینسٹھ لاکھ تھی جو اب بڑھ کر ڈیڑھ کروڑ ہوگئی ہے۔ ماہر معاشیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ سندہ کی دو معیشتیں ہیں ۔ ایک کراچی کی معیشت دوسری دیہی سندہ کی معیشیت ہے۔ کراچی کی ترقی میں اصافہ ہورہا ہے، کیونکہ یہاں بینکنگ اور صنعت میں جان ہے۔ لیکن دیہی علاقوں میں پسماندگی ہے، جس میں مزید اصافہ ہورہا ہے۔ وہاں انفراسٹرکچر خراب ہوگیا ہے۔ جس میں بہتری ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں اوسطا بتیس تینتیس فیصد غربت ہے۔ کراچی کو چھوڑ کر دیہی سندھ میں اٹھتیس سے چالیس فیصد غربت ہے۔ قیصر بنگالی کے مطابق انیس سو ننانوے اور دوہزار ایک کے درمیان ستر لاکھ افراد غربت کی لکیر سے بھی نیچے چلےگئے تھے جن میں نصف سے زیادہ سندہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ مڈل کلاس گروپ تھا مگر اب یہ بھی غریب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیس سال کے تجربہ کے بعد اب یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ اب لوگ بھوکے بھی سوتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے اس صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا اور کہا کہ سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ پورے طور پر استعمال ہی نہیں کیا، جس وجہ سے ترقی نہیں ہوئی اور لوگوں کو سہولتیں نہیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسی ایسی ہے جس سے امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہورہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔ نجی شعبے میں صنعت نہیں لگے گی تو مڈل کلاس کہاں سے بنے گی؟ اگرچہ تعلیم، صحت، اور دوسری بنیادی ضروریات کے لیے لوگ سرکاری اداروں پر انحصار کرتے ہیں لیکن سندھ میں یہ عوامی خدمات انتہائی کم درجے کی ہیں۔ قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ سندھ میں جو اسکول حکومت کے پےرول پر ہیں ان میں سے کئی عرصے سے بند ہیں اور جو چل بھی رہے ہیں ان میں معیاری تعلیم نہیں دی جا رہی جبکہ صحت کی یہ صورتحال ہے کہ بچے گندہ پانی پینے کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ گذشتہ برسوں کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ سندھ کے اخراجات کا اسی فیصد تنخواہوں اور قرضوں کی ادائیگی پر ہی خرچ ہو جاتا ہے جس کے بعد ترقیاتی کاموں کے لیے بہت ہی کم گنجائش رہتی ہے جبکہ ترقیاتی کاموں کی دیکھ بھال پر حالیہ برسوں میں پندرہ فی صد خرچ ہوتا رہا ہے، جو اس سے پہلے بتیس فیصد تھا۔ سینئر صحافی ارشاد گلابانی کہتے ہیں کہ سندھ معاشی لحاظ سے تین مسائل سے دوچار ہیں۔ جس میں سندھ کو ریونیو وصولیوں میں کم حصہ ملنا۔ این ایف سی ایوارڈ کا نہ ہونا اور آکٹرائے ٹیکس کی مد میں سبسڈی کا کم ملنا۔ موجودہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم انیس سو اکیاسی کی مردم شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ مگر سندھ کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، جس وجہ سے سندھ کو ملنے والا حصہ ضروریات کے لحاظ سے کم ہے۔ انیس سو ستانوے میں جب آکٹرائے ٹیکس کا خاتمہ کیا گیا تو یہ طے پایا تھا کہ جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی میں سے ڈھائی فیصد صوبوں کو دیا جائیگا۔ اس میں ہر سال دس فیصد اصافہ ہونا تھا۔ مگر آج تک انیس سو ستاون والی شرح سے حصہ دیا جارہا ہے۔ سندھ کی آمدنی کا اسی فیصد وفاق سے ملنے والی رقم ہے۔ جو کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملتی ہے۔ اس مرکزی پول میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم ریونیو، فیڈرل ایکسائز اور ویلتھ ٹیکس شامل ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت گرانٹس بھی دیتی ہے۔ اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ سندھ مکمل طور پر وفاق پر انحصار کر رہا ہے۔ جبکہ وفاق ایسے حصے دے رہا ہے جیسے فقیر کو خیرات ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا صوبوں کو اگر سیلز ٹیکس دیا جائے تو ان کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||