آج بجٹ پیش ہوگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پیر کی شام بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر رہی ہے۔ بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل رسمی طور پر وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری لی جا رہی ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان مالی سال دو ہزار پانچ اور چھ کے لیے ایک ہزار ارب یعنی ایک ٹریلین کے لگ بھگ کا بجٹ پیش کریں گے۔ حکومت کے مطابق اس بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ماضی کی نسبت ریکارڈ حد تک زیادہ رقم رکھی گئی ہے۔ بجٹ میں غربت کے خاتمے کے لیے اور تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی زیادہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم تاحال اس کی تفصیلات نہیں بتائی جا رہیں۔ حکومت کے مطابق اس بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کیا جائے گا۔ جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ دفاعی بجٹ میں بھی خاصہ اضافہ کیا گیا ہے اور نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ دو سو ارب روپے سے زیادہ ہے۔ حکومت نے بجٹ کے موقع پر تمام وزراء اور حامی اراکین کو اجلاس کے دوران موجود رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر حزب اختلاف کے دونوں بڑے اتحادوں ’متحدہ مجلس عمل‘ اور ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ نے علیحدہ علیحدہ اپنی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس شام کو چار بجے طلب کیے ہیں۔ حزب اختلاف اپنے اراکین کی مشاورت سے بجٹ اجلاس کے دوران احتجاج کی حکمت عملی طے کریں گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کا بجٹ عوام دوست ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||