BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
این ایف سی: فیصلہ مشرف کریں گے

شوکت عزیز
وزیراعظم شوکت عزیز قومی مالیاتی ایوارڈ اجلاس میں
پاکستان کے چاروں صوبائی حکومتوں نے مالی وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے قومی مالیاتی ایوارڈ پر حتمی فیصلے کا اختیار صدر جنرل پرویز مشرف کو دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ پیر کے روز صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔

جس میں وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور وزراء خزانہ شریک ہوئے۔

چاروں صوبوں کے درمیان چھٹے مالیاتی ایوارڈ کی تشکیل پر آپس میں سخت اختلافات تھے اور مقررہ مدت یعنی گزشتہ مارچ تک جب اتفاق نہیں ہوسکا اور آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی پیش ہونے والا ہے تو صدر کو مداخلت کرنی پڑی۔

آئین کے مطابق ہر پانچ سال کے لیے مرکز اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے لیےقومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔ ایوارڈ کی تشکیل اتفاق رائے سے کرنا لازمی ہے اور اگر ایک صوبہ بھی راضی نہ ہو تو اس کی تشکیل عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔

ابتدا میں مرکز اور صوبوں میں اپنے حصہ کے تعین پر اختلاف رائے تھا لیکن بعد میں مرکزی حکومت صوبوں کا حصہ بڑھانے پر رضامند ہوگئی ۔ جب اس پر اتفاق ہوا تو دوسرے مرحلے میں صوبوں کے آپس میں اختلاف رائے پیدا ہوئے۔

گزشتہ مالیاتی ایوارڈ میں محض آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوئی تھی۔ لیکن پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں نے کم ترقی ہونے اور دیگر نکات کو بھی اس فارمولے کی بنیاد بنانے پر اصرار کیا۔

مرکزی حکومت کے مطابق بیشتر نکات پر اب اصولی طور پر اتفاق ہے لیکن صوبہ پنجاب اور سندھ کے درمیان اختلاف ہے کہ صوبوں سے آمدنی کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔

صوبہ سندھ کا مطالبہ تھا کہ جو صوبہ جتنا ٹیکس مرکز کو دیتا ہے اس رقم میں سے پانچ فیصد رقم کی تقسیم متعقلہ صوبوں میں اس شرح سے ہونی چاہیے جس تناسب سے وصولی ہوتی ہے۔

صوبہ پنجاب نے اس کی مخالفت کی تو بعد میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کل آمدن نہیں تو کم از کم انکم ٹیکس کی بنیاد پر تقسیم کی جائے لیکن اس پر بھی پنجاب رضامند نہیں ہوا اور ان کے وزیر نے صوبہ سندھ کے مطالبے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

ایسی صورتحال میں صدر نے مداخلت کرتے ہوئے نوٹس لیا اور اجلاس طلب کیا۔

پیر کے روز چاروں صوبوں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ انہیں صدر پر اعتماد ہے کہ وہ صوبوں کی ترقیاتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے منصفانہ تقسیم کا ایسا فارمولہ وضح کریں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

واضح رہے کہ فی الوقت وفاقی محاصل سے چاروں صوبوں کو سینتیس فیصد حصہ ملتا ہے جبکہ باقی مرکز لیتا ہے۔ لیکن حال ہی میں صدر نے ایک بیان دیا تھا کہ صوبوں کا حصہ پچاس فیصد تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ کل مالی وسائل کا کم از کم پانچ فیصد آمدنی کی فراہمی کی بنیاد پر کیا جائے۔ کیونکہ ان کے بقول مرکز کو ہونے والی کل وصولی میں سے اڑسٹھ فی صد صوبہ سندھ سے ہوتی ہے۔

صوبہ پنجاب کا کہنا ہے کہ کراچی میں بندرگاہ ہونے کی وجہ سے بیشتر کاروباری دفاتر موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹیکس بھی زیادہ وصول ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد