| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’محاصل کی تقسیم، فارمولا تبدیل ہوناچاہیئے‘
بلوچستان قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں وسائل کی تقسیم کا ایک نیا فارمولا پیش کرے گا، جس میں آبادی کے ساتھ ساتھ رقبہ اور پسماندگی کو بھی مد نظر رکھنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔ یہ اجلاس منگل کو اسلام آباد میں دو سال کی تاخیر سے ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت عزیز اس اجلاس کی صدارت کریں گے، جبکہ خزانے کے صوبائی وزراء اور پرائیویٹ اراکین اپنے اپنے صوبے کی نمائندگی کریں گے اور محاصل میں اپنے اپنے صوبے کے لئے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ سید احسان شاہ اور پرائیویٹ رکن گلفراز اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ یہ اجلاس ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتا ہے اور اس مرتبہ یہ اجلاس دو ہزار ایک میں منعقد ہونا تھا لیکن کوئی منتخب حکومت نہ ہونے کی وجہ سے اس میں دو سال کی تاخیر ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ بلوچستان اس وقت کوئی ایک ارب چالیس کروڑ روپے کے خسارے میں ہے۔ صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ’صوبہ بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کے لیے موجودہ فارمولے میں تبدیلی ضروری ہے۔ اس وقت محاصل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور چونکہ بلوچستان کی آبادی کم ہے اس وجہ سے اسے کم حصہ ملتا ہے۔ لیکن ارباب اختیار یہ بھول جاتے ہیں کہ بلوچستان کا رقبہ پورے ملک کا تینتالیس فیصد حصہ ہے جس کی ترقی کے لئے زیادہ رقم چاہئے۔ صوبہ پنجاب کو آبادی کی بنیاد پر لگ بھگ چھپن فیصد حصہ ملتا ہے جبکہ بلوچستان کو صرف پانچ فیصد حاصل ہوتا ہے۔‘ مولانا عبدلواسع نے کہا ہے کہ ’گیس کی مد میں بھی بلوچستان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی گیس بایئس روپے فی ہزار مکعب فٹ خریدی جاتی ہے، جبکہ باقی صوبوں کی گیس ایک سو چوبیس روپے میں حاصل کی جاتی ہے، جو اس پسماندہ صوبے کے ساتھ سرا سر زیادتی ہے۔ بلوچستان اس اجلاس میں گیس کی قیمت دو سو روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کرے گا کیونکہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس اعلیٰ درجے کی ہے اور وافر مقدار میں موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کھاد فیکٹریوں کوگیس کی مد میں دی جانے والی رعایت کا بو جھ صوبہ بلوچستان پر ڈالا جاتا ہے جو لگ بھگ بارہ ارب روپے بنتا ہے اور اس کے بدلے میں بلوچستان کو بجلی کی مد میں رعایت دی جاتی ہے جو دو ارب کے برابر ہے۔ مولانا نے کہا ہے کہ ’بلوچستان کو بجلی کی مد میں میں دی جانے والی رعایت ختم کردی جائے اور کھاد فیکٹریوں کو دی جانے والی رعایت کی رقم بلوچستان کو دے دی جائے، جس سے صوبائی حکومت اپنے لوگوں کو مفت بجلی بھی فراہم کر سکتی ہے۔‘ یہاں یہ معلومات بھی موصول ہوئی ہیں کہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس سے پہلے یہ کوششیں جاری رہی ہیں کہ بلوچستان، سندھ اور سرحد آبادی کی بنیاد پر فارمولے کو چیلینج نہ کر سکیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سندھ گیس کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کرے گا جبکہ سرحد پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مد میں اپنے حقوق کا دفاع کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||