مالی وسائل:وفاق اورصوبوں کا تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جون کے پہلے ہفتے میں وفاقی اور صوبائی بجٹ پیش ہونے والے ہیں۔ مگر مالی وسائل کی تقسیم پر وفاق اور صوبوں کےدرمیان تنازعہ بھی حل نہیں ہو سکا ہے۔ صوبہ سندھ نے اپنے دیرینہ موقف میں نرمی کردی ہے- اور آمدنی کے بجائے انکم ٹیکس کی وصولی بنیاد پرحصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ اب این ایف سی ایوارڈ پر پنجاب کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ انھوں نےکہا ہے کہ ہم اپنے موقف میں تبدیلی اس لئے لائے ہیں کہ دوسرے صوبوں کو اعتراض تھا کہ تمام وسائل آمدنی کی بنیاد پر اس لئے تقسیم نہ کئے جائیں کیونکہ بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے دفاتر کراچی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب نے اپنے موقف میں لچک پیدا نہ کی تو معاملہ نمٹ نہیں سکےگا۔ مالی وسائل کی تقسیم کا نیا فارمولا نہ آنے کی صورت میں سندھ کو بڑا نقصان ہوگا۔ ارباب غلام رحیم نےکہا کہ اس سے پہلے سندھ یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ کل مالی وسائل کا کم از کم پانچ فیصد آمدنی کی فراہمی کی بنیاد پر کیا جائے۔ کیونکہ مالی وسائل میں سے اڑسٹھ فی صد سندھ دیتا ہے اور باقی پچیانوے فیصد مالی وسائل آبادی، رقبے اور غربت سمیت دیگر بنیادوں پر کیا جائے۔ سندہ کے وزیر خزانہ سردار احمد نے بھی گذشتہ روز بتایا کہ انہوں نے تینوں صوبوں کے وزیروں کو خطوط ارسال کیے ہیں۔ جس میں ان کو کہا گیا ہے کہ آئیے متفق موقف اختیار کریں۔ سندہ نے جو انکم ٹیکس میں سے صوبوں کو حصہ دینے کا فارمولا بنایا ہے اس سے صوبوں کا حصہ تیس فیصد بڑھ جائیگا۔ ملکی وسائل کی تقسیم کا فارمولہ سال 1997 میں فاروق لغاری کےدورِصدارت میں عبوری حکومت نے بنایا تھا جو کہ پانچ سال کے لئے قابل عمل تھا۔ لیکن صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کی وجہ سے پانچواں ایوارڈ ابھی تک عمل میں ہے۔ صوبائی حکومتیں وسائل کے مرکزی پول میں حصے اور تقسیم کے پیمانے پر متفق نہیں ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل صوبوں اور وفاق کے درمیاں وسائل کی تقسیم کا تناسب بالترتیب ساڑھے باسٹھ اور ساڑھے سینتیس فیصد تھا۔ رواں سال کے ماہ فروری میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیاں یہ تناسب پچاس پچاس فیصد کیا جا سکتا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیاں تنازع کے ساتھ ساتھ خود صوبوں کے درمیاں بھی اختلاف رائے ہے کہ وفاق سے صوبوں کے حصے میں آنے والی رقم وہ آپس میں کس طرح سے بانٹیں۔ پنجاب کا موقف ہے کہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جائے۔ سندھ کا مطالبہ ہے کہ اس کی بنیاد آمدنی کے وسائل کے حساب سےہونی چاہیے۔ سرحد اور بلوچستان بجلی اور گیس کی رائلٹی بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہر صوبے کے دلائل میں اپنا اپنا وزن ہے۔ پنجاب آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کو اگر آبادی کی بنیاد پر حصہ نہ ملا تو ترقی میں پیچھے رہ جائےگا۔ سندھ چونکہ زیادہ آمدنی دیتا ہے اس لئے وہ زیادہ حصے کا حقدار بنتا ہے۔ سرحد اور بلوچستان کے مطالبے میں اس لئے وزن ہے کہ ان کے پاس گیس اور بجلی کے علاوہ اور کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ سرحد کے وزیر خزانہ سراج الحق نے یہ کہا تھا کہ اگر نیا ایوارڈ نہ آیا تو سب سے زیادہ نقصان سرحد اور بلوچستان کا ہوگا۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے مالیاتی امور ڈاکٹر سلمان نے گذشتہ روز کراچی میں کہا تھا کہ ایوارڈ دو سو پچاس ارب سے دو سو ستر ارب کے درمیان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے مرکزی پول سے پچاس فیصد مانگ رہے ہیں جبکہ وفاق سینتلیس فیصد دینے کے لئے تیار ہے۔ ان کہنا تھا کہ اگر صوبے متگفق نے ہوئے تو آنے والا بجٹ بھی پانچویں این ایف سی کے تحت ہی پیش کیا جائیگا۔ حکومت سندھ کا خیال ہے کے نئے موقف کے مطابق سندھ کو زیادہ حصہ ملے گا۔ کیونکہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس وغیرہ کی وصولیاں سندھ میں زیادہ ہوتی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی وصولیوں کے بارے میں رپورٹ کے مطابق انیس سو چھیانوے ستانوے کے مالی سال سے لیکر سال دوہزار دو تک پنجاب کا حصہ کم سے کم تئیس فیصد اور زیادہ سے زیادہ ستائیس فیصد رہا ہے۔ جبکہ سندھ کا حصہ کم سے کم چونسٹھ فیصد اور زیادہ سے زیادہ انہتر فیصد رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال دو ہزار ایک اور دو کے مالی سال کے دوران پنجاب سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں ستائیس عشاریہ چھ ارب روپے اور سندھ میں بہتر عشاریہ دو ارب روپے وصولیاں ہوئیں تھیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے مالیاتی امور ڈاکٹر سلمان کے کہنا ہے کہ آئین کے تحت جب تک وفاقی حکومت اور صوبے متفق نہیں ہوجاتے چھٹا این ایف سی ایوارڈ نہیں آسکتا۔ پاکستان میں پانی کی تقسیم کی طرح وسائل کی تقسیم بھی ایک چیلینج ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ یہ مسئلہ صدر پرو یز مشرف کے دور حکومت میں طے ہوجائیگا مگر وہ ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوسکےہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||