سندھ اسمبلی میں گرما گرمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی کا اجلاس حکومت اور حزب مخالف میں گرما گرمی کے بعد پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کے سپیکر نے پی پی پی کے رکن اسمبلی رفیق انجینئیر کوایوان سے باہر نکل جانے کا حکم دیا ۔ سپیکر نے رفیق انجینئیر مزید چار سے پانچ دن تک ایوان میں داخلے سے روکنے کا نوٹس دے دیا۔ اسمبلی کا اجلاس صبح گیارہ بجے شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی پی پی پی سندھ کے سربراہ نثار کھوڑو نے سپیکر سید مظفر حسین شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا ریکوئزیشن اجلاس تھا جسے حکومت نے سبو تاژ کیا ہے تاکہ ایم کیو ایم کے اراکین اپنے قائد الطاف حسین کی سالگرہ منا سکیں۔ صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ سپیکر کے اس فیصلے میں ایم کیو ایم کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس دوران اسمبلی میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کے اراکین کے درمیان گرما گرم بحث کا آغاز ہوا اور پی پی پی کی جانب سے صدر مشرف کی وردی کے خلاف قرارداد پیش کیے جانے کی نوبت نہ آ سکی۔ اس قرارداد کو سندھ سکریٹریٹ میں سولہ تاریخ کو جمع کرانے والی پی پی پی کی رکن صوبائی اسمبلی کی رکن حمیرا الوانی سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جس دن قرار داد جمع کرائی گئی تھی اسی رات بتا دیا گیا تھا کہ قرارداد نامنظور کر دی گئی ہے کیونکہ صدر، گورنر یا چیف جسٹس کے خلاف کوئی قرار داد نہیں پیش کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا ان کو اب تک تحریری طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اسی لیے واپس نہیں آ رہیں کیونکہ ان کو پنے کارکنوں کی حرکتوں کا پتہ ہے۔ اس جملے کے بعد ایوان میں گرما گرمی بڑھ گئی اور پی پی پی کے اراکین نے بے اختیار’ بی بی رٹرن پاکستان‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اسی دوران پی پی پی کے رکن رفیق انجینئیر نے سپیکر سید مظفر حسین شاہ سے کہا کہ انہیں بولنے کا موقع دیا جائے ، سپیکر نے جواباً کہا کہ وہ اپنی باری کا انتظار کریں اور غیر اخلاقی زبان کے استعمال سے پرہیز کریں۔ لیکن ہنگامہ آرائی اور تلخ کلامی میں اضافہ ہوا جس کے بعد سپیکر نے رفیق انجینئیر سے ایوان سے باہر نکل جانے کا مطالبہ اور انہیں مزید چار سے پانچ دن ایوان میں داخلے سے روکنے کا نوٹس دیتے ہوئے اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||