وزیراعلیٰ سندھ کامخالف گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد پولیس نے پریس کلب میں وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کی کوشش کرنے والے حفیظ شورو کوگرفتار کر لیا ہے۔ حفیظ شورو بدعنوانی کے الزامات کے تحت برطرف کردہ سندھ کے صوبائی وزیر امتیاز شیخ کے خلاف درج شدہ مقدمے میں اہم ملزم بھی ہیں۔ صحافیوں نےحفیظ شورو کے اہل خانہ کے ہمراہ پریس کلب سے آبپارہ تھانے تک احتجاجی جلوس نکالا اور تھانے کے باہر مظاہر کرتے ہوئے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ راولپنڈی، اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس یعنی ’ آر آئی یو جے‘ کے صدر کمال اظفر نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اظہار رائے کی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے اس اقدام میں ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ امتیاز شیخ بھی ان دنوں اسلام آباد میں ہیں اور ان کے ساتھ نامزد کردہ ملزم حفیظ شورو کو کراچی میں بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں بلا کر انہیں امتیاز شیخ کے خلاف گواہ بننے کی صورت میں دھمکایا گیا اور بعد میں ایک کروڑ روپوں کی پیشکش بھی گئی۔ وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے الزام لگایا تھا کہ حفیظ شورو، امتیاز شیخ کے خاص آدمی ہیں اور زمینوں کے کھاتے تبدیل کرانے اور جعلسازی کے ماہر ہیں۔ آبپارہ پولیس کے ڈیوٹی محرر نے پریس کلب سے حفیظ شورو کی گرفتاری کے واقعہ سے لاعلمی ظاہر کی لیکن صحافیوں کی جانب سے تھانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی تصدیق کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||