اسلام آباد میں ججوں کو پلاٹ آلاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر برائے ہاوسنگ سید صفوان اللہ نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان حکومت نےگزشتہ سال اسلام آباد میں نئے تعمیر ہونے والے رہائشی سیکٹر ’G-14 میں ساڑھے سات سو سے زیادہ پلاٹ ججوں اور دیگر سرکاری ملازمین کو الاٹ کیے ہیں۔ حکومت کے حامی رکن قاضی عبدالقدوس راجڑ کے سوال پر انہوں نے اپنے تحریری جواب کے ساتھ ایوان میں پلاٹ حاصل کرنے والوں کی فہرست بھی پیش کی۔ وزیر کی پیش کردہ فہرست کے مطابق ’ججز کوٹا، سےایک سو نو ججوں نے پلاٹ حاصل کیے۔ سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے کسی جج کا نام فہرست میں شامل نہیں ہے۔ پچاس اعلیٰ ’کیٹیگری، کے پلاٹوں میں سے چار پلاٹ وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان، جسٹس عبدالمنان، جسٹس سعیدالرحمان فرخ، جسٹس ظفر پاشا چودھری اور جسٹس احمد ربانی کو دیے گئے ہیں۔ اسی ’کیٹیگری، میں اکتیس پلاٹ لاہور ہائی کورٹ کے جن جج صاحبان کو ملے ہیں ان میں جسٹس شاہدہ خورشید، رانا محمد ارشد، منصوراحمد، محمد غنی، محمد ظفر یاسین، پرویز احمد، نعیم اللہ خان، بشیر مجاہد، فرخ لطیف، تنویر بشیر انصاری، رستم علی ملک، سید جمشید علی، شیخ عبدالرشید، محمد اکرم، محمد اختر شبیر، چودھری اعجاز احمد، محمد سعید اختر، محمد فرخ محمود، ایم مزمل خان، علی نواز چوہان، محمود اختر شاہد ، محمد سائر علی، میاں حامد فاروق، سردار محمد اسلم، شیخ حاکم علی، سید سخی حسین بخاری، راؤ نعیم ہاشم خان، ایم جاوید بٹر، خواجہ محمد شریف، مولوی انوارالحق اور میاں ثاقب نثار شامل ہیں۔ صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ کے اسلام آباد میں اعلیٰ ’کیٹیگری کے پلاٹ حاصل کرنے والے سات ججوں میں چیف جسٹس سید سعید اشہد، محمد روشن عیسانی، علی اسلم جعفری، محمد صادق، محمد نجیب اللہ، سید زوار حسین اور سرمد جلال عثمانی شامل ہیں۔ پشارو ہائی کورٹ کے پانچ جج صاحبان، قاضی احسان اللہ قریشی، ملک حامد سعید، شہزاد اکبر خان، فضل الرحمان خان اور طارق پرویز نے بھی پہلی ’کیٹیگری، میں پلاٹ حاصل کیے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں سیاست دانوں، جرنیلوں اور صحافیوں سمیت مختلف شعبوں کے لوگوں کو دیے گئے پلاٹوں کی فہرستیں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان میں ججوں کے نام کم تعداد میں دیکھنے کو ملتے تھے۔ اسلام آباد میں ’جوڈیشل ٹاؤن، بھی ہے جس میں بیشتر ججوں اور وکلاء نے پلاٹ حاصل کر رکھے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس سیکٹر میں پلاٹ حاصل کرنے والے جج صاحبان کے ’جوڈیشل ٹاؤن، میں پلاٹ ہیں یا نہیں۔ ’فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن، کی اس رہائشی سکیم میں دوسری ’کیٹیگری، میں ججز کوٹا اور ’آئینی کوٹا، سے پانچ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں، چار سینئر سول ججوں، اور نو سول ججوں نے بھی پلاٹ حاصل کیے۔ جبکہ ان دونوں کوٹا میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان محمد یونس خان، لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار دوست محمد ملک اور دیگر چھوٹے گریڈ کے ملازمین نے بھی پلاٹ حاصل کیے۔ حکومتی لسٹ کے مطابق ’جنرل کوٹا، میں ’تین کیٹیگریز، بنا کر چھ سو ساٹھ افسران کو پلاٹ دیے گئے۔ سب سے زیادہ پلاٹ گریڈ بیس سے بائیس کے افسران کو ملے جن کی تعداد تین سو پندرہ ہے۔ گریڈ اٹھارہ اور انیس کے افسران کو دوسری ’کیٹیگری، میں دو سو پچپن جبکہ تیسری میں گریڈ سترہ کے نوے افسران کو پلاٹ دیے گئے۔ ’جنرل کیٹیگریز، میں جن افسران نے پلاٹ حاصل کیے ان میں فوجی ہیڈ کوارٹر، خفیہ ایجنسیز، ملٹری انجنیئرنگ، ملٹری لینڈ کینٹونمینٹ اور مختلف کارپوریشنز کے افسران بھی شامل ہیں۔ اس مجوزہ رہائشی سیکٹر میں صحافیوں کے لیے بھی کوٹا مقرر کیا گیا ہے اور مقرر کردہ معیار کے مطابق وزارت اطلاعات درخواست گزار صحافیوں کے کاغذات کی چھان بین کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||