ججوں نے کام شروع کردیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کوٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کی مداخلت کے بعد لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے آج عدالتی کام شروع کردیا جبکہ وکلاء نے سیشن جج کے خلاف پر امن احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ لاہور کی ماتحت عدلیہ اور مجسٹریٹوں نے گزشتہ روز وکلاء سے لڑائی کے بعد اپنے استعفے سیشن جج کو پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ آج سیشن کورٹ میں تمام جج اپنی عدالتوں میں بیٹھے نطر آۓ تاہم وکلاء بہت کم پیش ہوۓ اور عدالتی کمرے خالی نظر آرہے تھے جہاں عام دنوں میں خاصا ہجوم رہتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس نے آج لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ججوں اور وکلا کے درمیان لڑائی کے معاملہ پر بات چیت کی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلا کا بڑا مطالبہ ہے کہ سیشن جج خلیل چودھری کا تبادلہ کیا جاۓ۔ انھوں نے یہ بات چیف جسٹس سے کہی کہ ان حالات میں معاملہ کو حل کرنے کے لیے سیشن جج کے تبادلہ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس ان سے متفق نظر آتے تھے تاہم انھوں نے واضح لفظوں میں ابھی کچھ نہیں کہا۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ انھوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ جب تک کوئی حتمی فیصلہ ہو اس وقت تک سیشن جج اپنے دفتر میں نہ آئیں کیونکہ اس سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وکیلوں کے خلاف درج مقدمات میں کسی وکیل کو گرفتار نہ کیا جاۓ۔ احمد اویس نے کہا کہ وکلا نے احتجاج اس لیے کیا کہ سیشن جج نے وکلا کو صلح صفائی کے لیے بلایا اور دوسری طرف پولیس سے کہا کہ جب وہ باہر نکلیں تو انھیں پکڑ لیں۔ ہائی کورٹ بار کے صدر کے مطابق سیشن جج نے جعرات کے روز وکلاء سے بات چیت کے دوران میں کہا کہ اب کوئی بات نہیں ہوسکتی اور وہ وہاں سے چلے جائیں۔ اس کے بعد وہاں موجود پولیس نے ایک وکیل کو پکڑا کر گھسیٹا تو اس کی شلوار اتر گئی جس سے اتنا اشتعال پیدا ہوا کہ حالات خراب ہوگۓ۔ تاہم ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ وکلاء میں ایسے لوگ شامل ہوگۓ جو وکیل نہیں لیکن انھوں نے احتجاج کے دروان میں توڑ پھوڑ کی۔ دوسری طرف آج لاہور کی ضلعی بار کے صدر حنیف بیگ اور سیکٹری مقصود بٹر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پیر کے روز لاہور بار کا اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جاۓ گا۔ انھوں نے کہا کہ وکلاء اپنا پُر امن احتجاج جاری رکھیں گے اور چونکہ جج اپنے استعفے دینے کا اعلان کرچکے ہیں اس لیے وہ اب عدالتوں کے جج نہیں ہیں۔ اس موقع پر وکلاء کے ہجوم نے سیشن جج لاہور اور چیف جسٹس لاہور ہائی کوٹ کے خلاف نعرے بازی کی ، ان پر بدعنوان ہونے کا الزام لگایا اور انھیں گالیاں دیں۔ وکلاء نے چند گھنٹوں کے لیے ایوان عدل میں احتجاجی کیمپ بھی لگایا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||