وکلاء: لائسنس ججوں کے ہاتھ میں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک قرار داد میں کہا ہے کہ حکومت وکیلوں کے لائسنس منسوح کرنے کا اختیار بار کونسلوں سے لے کر ججوں کو دینے کے لیے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں ترمیمی بل لے کر آئی ہے جس کو اگر واپس نہ لیا گیا تو پورے ملک کے وکلا ہڑتال کریں گے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احمد اویس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس وکلاء کے لائسنس سے متعلق قانون میں ترمیم کا مسودہ زیرغور ہے جس میں حکومت نے شق ’چون اے‘ کا اضافہ کیا ہے جس کے مطابق وکلا کے لائسنس منسوخ کرنے کا جو اختیار پنجاب بار کونسل اور پاکستان بار کونسل کو حاصل ہے اسے ان سے لے کر ہائی کورٹ کے ججوں اور سپریم کورٹ کے ججوں کو دیا جارہا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ بار کونسلوں کی انظباطی کمیٹی، جو وکلاء کے نامناسب سلوک کی کارروائی کی سماعت کرتی ہے، میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا جج شامل ہوتا ہے اور اس نئی قانونی ترمیم کی ضروت نہیں تھی۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد وکلاء کا گلا گھونٹنا ہے اور وکلاء ان ججوں کے ہاتھ میں اپنی تقدیر نہیں دے سکتے جن کا اپنا کردار اچھا نہیں اور جو اپنے حلف کی پاسداری نہیں کرتے۔ احمد اویس نے کہا کہ حکومت کا یہ فعل بدنیتی پر مبنی ہے اور وکلاء پورے ملک میں اس کے خلاف ہڑتال کریں گے اور سات اگست کو کراچی میں ہونے والے جوئینٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں اس پر لائحہ عمل تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ قانون منظور ہوا تو وکلاء پورے ملک میں عدالتوں کی تالہ بندی کریں گے اور جب تک یہ قانون ختم نہ ہوا عدالتی کام کا بائیکاٹ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||