اسلام آباد کا سیاسی مینو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر آپ کو کوئی ایم ایم اے کھانے، یا ڈویلپمنٹنل (نشوونما) ملک شیک پینے کی دعوت دے تو آپ کو یقیناً حیرانی ہوگی۔ لیکن اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں اب ایسے بہت سے ناموں سے کھانے تیار ہوتےہیں ۔ اس ریسٹورنٹ کی وجہ شہرت اس کا مینو ہے۔ جو یہاں آنے والوں کو ایک مرتبہ سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں زیادہ تر کھانوں کے نام پاکستان کی مشہور سیاسی جماعتوں اور برصغیر کی چند مشہور شخصیات ناموں پر رکھے گئے ہیں، اس کے علاوہ یہاں ملنے والے کھانوں کی فہرست میں عالمی طاقتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نام بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس مینو میں پی ایم ایل (پیور مٹن لیگ) ، پی پی پی (پاکستان پاپولر پکوڑا)، ایم ایم اے، مادھوری مستی، جام الفت، سول ملٹری مکس دودھ سوڈا، سردار ستو، لالو لسی دلبہار، ملٹری انٹروینشن (فوجی مداخلت) امریکی جہموریت اور یو این ڈی پی، جیسے بہت سے ناموں کے کھانے شامل ہیں۔ اس ریسٹورنٹ کے مالک ارشد بھٹی کا کہنا ہے کہ ’عام کھانے کی جگہوں پر یہ لکھا نظر آتا ہے کہ ’سیاسی گفتگو سے پرہیز کریں‘۔ لیکن میرے خیال میں اس طرح ہم لوگوں کی سوچ پر پابندی لگا رہے ہوتے ہیں حالانکہ سیاست پر بات کرنے سے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اور ہمارے اس ریسٹورنٹ میں لوگوں کو اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ کھل کر نہ صرف ملکی بلکہ بیرونی موضوعات پر بھی بات کر سکیں۔ اور بہت جلد میں ایسے پوسٹر اور بینر بھی تیار کروا کر اپنے ریسٹورنٹ میں لگوا رہا ہوں جن پر لکھا ہوگا، دل کھول کر سیاست پر گفتگو کریں۔ میرے اس ریسٹورنٹ کا نعرہ ہی یہ ہے ’ایک پیالی چائے پر تھوڑی سی گفتگو‘۔ ارشد بھٹی کا اصرار تھا کہ کھانوں کے اس طرح کے سیاسی ناموں سے کسی کی تضحیک کرنا اُن کا مقصد نہیں ہے، بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں میں برداشت اور رواداری پیدا ہو۔ اس ریسٹورنٹ کی مینیجر صوفیہ خواجہ کا کہنا تھا کہ جب کوئی پہلی مرتبہ یہاں آتا ہے تو ہمارے کھانوں کی فہرست کو دیکھ کر ہم سے سوال ضرور کرتا ہے لیکن بعد میں ہماری اس کوشش کی داد بھی ضرور دیتا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کھانے کی تو بہت سی جگہیں ہیں لیکن یہ ہمارے مینو اور کھل کر بات کرنے کی آزادی ہی کی وجہ ہے کہ لوگ یہاں آتے ہیں اور یہ ہمارے کاروبار میں بہتری کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ارشد بھٹی کا کہنا تھا کہ اب تو مختلف جماعتوں والے ان سے کہتے ہیں کہ اُن کے ناموں کو اپنے کھانوں کی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا۔ اس ریسٹورنٹ پر آنے والی عائشہ تنویر کا جو پیشے کے لحاظ سے بینکر ہیں کہنا تھا کہ سارا دن دفتر کی تھکاوٹ کے بعد میں اکثر ’رواداری‘ اور کبھی کبھی ’مشرف‘ کافی پینے یہاں آتی ہوں اور بہت مزا آتا ہے۔ لیکن یہاں آنے والے ایک نوجوان عمران مجید کا کہنا تھا کہ میرے لیے ناموں سے زیادہ کھانے کی اہمیت ہے۔ صرف نام کی وجہ سے تو کوئی ایک بار یہاں آ سکتا ہے لیکن اگر کھانا اچھا ہو گا تو تب ہی کوئی دوسری بار یہاں آئے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||