نانبائیوں کی ہڑتال، روٹی نہیں ملی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں مقامی انتظامیہ اور نان بائیوں کے درمیان روٹی کی قیمت کا قضیہ ہفتے کی شام عارضی طور پر حل کر لیا گیا ہے۔ البتہ چودہ سو سے زائد نان بائیوں کی ہڑتال کی وجہ سے سنیچر کی صبح لوگوں کو ناشتے میں تندوری روٹی نہیں بلکہ ڈبل روٹی ملی۔ نان بائیوں کو اپنی ہڑتال ختم کرنے پر آمدہ کرنے میں صوبائی حکومت کی کوششوں کا بڑا دخل رہا۔ کئی صوبائی وزراء سے مذاکرات کے نتیجے میں نان بائیوں نے سوموار تک ہڑتال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ اس دوران وہ سو گرام روٹی دو روپے میں فروخت کرنے کی پابند ہوں گے۔ ملک کے دیگر حصوں کے برعکس صوبہ سرحد میں تندور پر لوگوں کا انحصار کچھ زیادہ ہی ہے۔ اسی لئے آج ضلع پشاور میں نانبائیوں کی ہڑتال عوام کے لئے سب سے بڑا موضوعِ بحث رہی۔ خواتین خانہ روٹی کے بغیر چاول جیسے کھانے پکانے میں مصروف رہیں جبکہ مرد حضرات ہڑتال کی وجوہات پر غور کرتے رہے۔ حکومت پر تو ہر کوئی قیمتوں پر کنٹرول نہ کر سکنے کا الزام لگاتے ہوئے تنقید کرتا رہتا ہے لیکن ہڑتال کی وجہ سے آج نانبائی بھی اس تنقید سے محفوظ نہ رہے۔ پشاور کے دو شہریوں کا ان کے بارے میں کہنا تھا کہ اس ہڑتال کے خاتمے پر لوگوں کو نانبائیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو بقول ان کے روزانہ روٹی ہلکی اور قیمت بھاری کرتے رہتے ہیں۔ روٹی نہ ملنے کی وجہ سے ہوٹل اور کینٹین مالکان بھی پریشان تھے۔ ایسے ہی ایک کینٹین کے واجد علی نے اپنی مشکل کے بارے میں بتایا کہ اس کو ہڑتال کی خبر تاخیر سے ملی جب تک اس نے اسی افراد کا کھانا تیار کر لیا تھا۔ ’اگر روٹی نہ ملی تو یہ کھانا تو ضائع ہوجائے گا۔’ پشاور میں ضلعی حکومت اور نانبائیوں کے درمیان روٹی کی قیمت اور وزن کا تنازعہ رمضان کے بعد سے سنگین صورت اختیار کرگیا تھا۔ پشاور میں چند روز پہلے چودہ سو سے زائد نانبائیوں نے مقامی حکومت کا مقرر کردہ ایک سو تیس گرام روٹی کا دو روپے کا نرخ مسترد کرتے ہوئے ایک سو اسی گرام کی روٹی چار روپے میں فروخت کرنا شروع کر دی تھی۔ اس حکم عدولی کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی حکومت نے ڈبل روٹی پر پابندی عائد کردی جس کے خلاف نانبائی آج سے غیرمعینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ نانبائیوں کا موقف ہے کہ آٹے اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ان کے لئے سنگل روٹی اس نرخ پر فروخت کرنا ممکن نہیں۔ انجمن نانبائیان کے رہنما خستے گل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انہیں گندم فراہم کرے تو وہ سستی روٹی فراہم کریں گے۔ ان کا الزام تھا کہ یہ گندم افغانستان سمگل کی جا رہی ہے جس سے یہاں قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ادھر ضلع پشاور کے حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں آٹے کی گرانی کے ذمہ دار وہ نہیں ہیں بلکہ یہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا درد سر ہے۔ تندور ٹھنڈے ہونے کی وجہ سے آج پشاور میں بیکری میں تیار ہونے والی ڈبل روٹی بھی مشکل سے ہی ہاتھ آرہی تھی۔ لوگوں نے ہڑتال کے طول پکڑنے کے خوف سے آج آٹے کی بھی خوب خریداری کی۔ روٹی کے وزن اور قیمت کے مسئلہ پر مقامی انتظامیہ اور نانبائیوں کے درمیان تنازعہ کافی پرانا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں سے یہ مسلہ سر اٹھاتا رہتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||