BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 22:51 GMT 03:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی اقتصادی حالت

News image
بہتر معیشت کے ثمرات غریبوں تک کب پہنچیں گے ؟
پاکستان کی اقتصادی حالت گزشتہ چند سالوں میں قدرے بہتر رہی ہے۔ مجموعی صنعتی ترقی میں اضافہ ہوا ہے۔ زرعی پیداوار بہتر ہوئی ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مالیاتی خسارہ کم اور روپے کی قیمت میں مجموعی طور پر استحکام آیا ہے۔ تاہم اس ساری کارکردگی کا عام آدمی کی زندگی پر کوئی مثبت اثر نہیں ہو سکا۔ امیر امیر تر ہوتے گئے، لیکن غریب غربت کی چنگل سے باہر نہیں نکل سکے۔

تمام اندازوں کے مطابق آج بھی پاکستانیوں کی ایک تہائی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اوسطاً ایک امریکی ڈالر روزانہ سے کم آمدنی والے افراد کو غریب مانا جاتا ہے۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بے روزگار ہے اور کرپشن اور اقربا پروری آج بھی ویسی ہی ہے جیسے آج سے چند سال پہلے تک تھی۔

سرکاری شعبے میں چلنے والی بڑی کارپوریشنیں جیسے واپڈا، پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن آج بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے سے قاصر ہیں اور حکومتی قرضوں پر چلنے پر مجبور ہیں۔ ان کے نقصانات کم نہیں ہوسکے اور کاروبار کرنے کی قیمت خطے کے بیشتر ممالک سے آج بھی زیادہ ہے۔

اس سال مہنگائی ملک میں گزشتہ آٹھ سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، مہنگائی جس کواقتصادیات کی زبان میں زبان میں افراط زر کہا جاتا ہے انیس سو ستانوے کے بعد پہلی دفعہ مجموعی طور پر نو فیصد سے زیادہ ہے۔ مارچ دو ہزار پانچ میں اس شرح میں دس اعشاریہ دو پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کھانے پینے کی اشیائے میں تقریباً بارہ فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ مارچ دو ہزار پانچ میں ان اشیاء کی قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں تیرہ اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہوا۔ پیاز کی قیمت میں پینتالیس فیصد سے زیادہ، سبزیوں کی قیمتوں میں پچیس فیصد اور پھلوں کی قیمتوں میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دسمبر سے مارچ تک تین ماہ میں اوسطاً بائیس فیصد اضافہ ہوا جبکہ گندم اور چینی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ چھوٹا گوشت دو سو بیس روپے فی کلو سے کم دستیاب نہیں اور مُرغی کی موجودہ قیمت اَسی روپ فی کلو ہے۔

ایشائی ترقیاتی بنک اور عالمی بنک اور آئی ایم ایف سمیت تمام اقتصادی ماہرین نے حکومت کی توجہ مہنگائی میں اضافے کی طرف دلائی ہے اور کہا ہے کہ وہ مہنگائی کو قابو کرے ورنہ اقتصادی ترقی کا مستقبل خطرے میں پڑھ جائے گا۔

تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ صنعتی اور زرعی پیداوار مالی سال دو ہزار چار اور پانچ کے لیے مقررہ اہداف سے زیادہ متوقع ہے۔ لیکن صنعتی ترقی میں اضافہ آئندہ کچھ عرصے میں بڑھنے کے آثار نہیں کیونکہ کارخانے لگنے میں ابھی وقت لگے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے اور توقع ہے کہ اس سال ملک میں ایک ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے جو ابھی بھی اُنیس سو پچانوے چھیانوے کی غیر ملکی سرمایہ کاری سے کم ہو گی۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے کثیر تعداد میں زر مبادلہ اپنے ملک بھجوایا ہے۔ جو اس سال چار ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ لیکن دیارغیر میں خون پیسنے سے کمائی گئی اس دولت کا بیشتر حصہ سٹاک مارکیٹ میں لگایا گیا۔ جس میں صرف ڈیڑھ ماہ کے قلیل عرصے میں بارہ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ جوکہ اُنیس سو اٹھانوے میں ایٹمی دھماکوں کے بعد منجمد کیے جانے والے گیارہ ارب ڈالر سے زیادہ ہے، فرق یہ ہے کہ وہ گیارہ ارب ڈالر پاکستانی کرنسی میں کھاتہ داروں کو ادا کئے گئے لیکن سٹاک مارکیٹ میں حصص کے کاروبار میں ضائع ہونے والے بارہ ارب ڈالر کا مداوا ممکن نہیں۔

پاکستانیوں کے غیر ملکی سرمایہ کا دوسرا بڑا استعمال جائیداد اور زمینوں کی خریداری کی صورت میں دیکھنے میں آیا۔ ان دونوں استعمالات کی بڑی وجہ بنکوں کی طرف سے منافع میں خوفناک کمی اور بچت کی سکیموں کم منافع کی وجہ سے دیکھنے میں آئی اور لوگوں نے بنکوں میں سرمایہ رکھنے اوربچت کی سکیموں میں سرمایہ کاری کی بجائے سٹاک مارکیٹ، زمینوں اور گاڑیوں کی خرید میں لگانا بہتر سمجھا۔

جسکی وجہ سے گاڑیاں اپنی مقررہ قیمت سے تیس ہزار روپے سے لیکر دو لاکھ روپے زیادہ قمیت میں بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں۔ حصص کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور زمین کی قیمت میں دو سو سے تین سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اسلام آباد اور اسکے گرد و نواح میں جو زمین دو سال قبل چند ہزار میں دستیاب تھی آج لاکھوں میں جا پہنچی ہے اور لاکھوں کی زمین کرڑوں میں جا پہنچی ہے اس کا فائدہ سٹاک مارکیٹ کے سرکردہ، پراپرٹی ڈیلروں اور گاڑیوں کی خرید وفروخت کرنے والوں کو تو ہوا لیکن ظاہری طور پر یہ قیمتیں عام لوگوں کی قوت خرید سے باہر جا چکی ہیں۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ اس سال چھ ارب ڈالر تک پہنچنے کا احتمال ہے جو ملک کی تاریخ کا ایک ریکارڈ ہو گا۔ اسکی بڑی وجہ پٹرولیم کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتیں اور درآمدات میں بہت زیادہ اضافہ ہے، تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر جو پہلے ہی گر کر دس اعشاریہ چار ارب ڈالر ہو چُکے ہیں میں بڑی حد تک مزید کمی ہوگی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غربت میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں خاطر خواہ کامیابی ہوتی نظر نہیں آتی۔ صحت، تعلیم، مہنگائی، زکوۃ اور بیت المال کی تقسیم اور انصاف کی فراہمی میں بھی حکومتی کارکردگی پچھلے سال کے مقابلے میں بھی کم رہی۔

ترقیاتی بجٹ کےلیے جاری ہونے والی رقم میں قدرے بہتری پیدا ہوئی ہے لیکن اس کی کوالٹی میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔ پاکستان کا شمار ترقی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلے کے اعتبار سے اکانوے نمبر پر ہوتا ہے جو دو ہزار تین میں تہترویں نمبر پر تھا۔

سرکاری محکموں کی کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان کا شمار ایک سو چار ممالک کی فہرست میں ایک سو دو نمبر پر ہوتا ہے۔ تاہم دفاعی ضروریات کے لیے ہدف سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔

موجودہ مالی سال میں غیر ملکی قرضوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جنوری دو ہزار پانچ کی ابتداء میں غیر ملکی قرضے چھتیس اعشاریہ سات ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو جون دو ہزار چار میں پینتیس اعشاریہ چھبیس ارب ڈالر تھے۔

دیکھنا یہ ہے کہ حکومت تجارتی خسارہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ترقی کے مواقع عوام تک پہنچانے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے، جبکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان قومی مالیاتی کمشن ایوارڈ پر بھی ابھی سمجھوتہ ہوتا نظر نہیں آتا اور صوبے کم وسائل کا رونا روتے نظر آتے ہیں صوبائی وسائل میں کمی کی وجہ سے صحت، تعلیم اور روزگار کی فراہمی میں بہتری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد