ہر ماہ دو سے ڈھائی ہزار روپے قرضہ لیتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں کم گریڈ کے سرکاری ملازمین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ایک سرکاری ملازم نے کہا ہے کہ ہر ماہ دو سے ڈھائی ہزار روپے قرضہ لیتے ہیں اور اگر خدانہ خواستہ گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو حالات انتہائی ابتر ہو جاتے ہیں۔ گل میر خان کی عمر تیس سال ہے اور لائیو سٹاک کے محکمے میں نو گریڈ میں سٹاک اسسٹنٹ ہے۔ گل میر خان نے ڈبل ایم اے کیا ہے ایک ڈگری سوشیالوجی اور ایک پشتو زبان میں حاصل کی ہے اور چھ افراد پر مشتمل خاندان کا واحد کفیل ہے۔ گل میر خان سے میں نے پوچھا کہ حالات کیسے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اب سے تھوڑی دیر پہلے مختلف مقامات پر یہی بحث ہو رہی تھی کہ سرکاری ملازم کےحالات انتہائی برے ہیں اور ہر ماہ ایک گریڈ سے لیکر چودہ گریڈ تک کا ملازم کسی نہ کسی طریقے سے قرض لیتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے بلوچستان میں آب پاشی کا نظام کاریز خشک ہو جانے کی وجہ سے زمینداری ختم ہو گئی ہے۔ چھ ماہ پہلے انہیں لائیو سٹاک کے محکمے میں ملازمت ملی اور تنخواہ پانچ ہزار ایک سو روپے مقرر ہوئی۔ صورتحال یہ ہے کہ ہر ماہ کی پچیس تاریخ کے بعد وہ اور اس کے بھائی لوگوں سے قرض لیتے ہیں تاکہ گھر میں چولہا جل سکے۔ یہ تو اچھا ہے کہ مکان اپنا ہے اس لیے مکان کا کرایہ دینے کی الجھن نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ میں ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں بہت فرق ہے ایک دوکان یا گلی میں ایک نرخ ہیں تو دوسری دوکان اور گلی میں نرخ مختلف ہوتے ہیں۔ حکومت کے مقرر کردہ نرخ کچھ اور ہیں اور دوکاندار کسی اور نرخ پر اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ انھوں نے اخبارات میں شایع ہونے والی ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ پندرہ فیصد کے لگ بھگ ہوگا۔ انھوں نے کہا ہے کہ جب ایک ملازم کی تنخواہ اٹھارہ سے بیس ہزار روپے ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے نا کافی ہوتی ہے تو پانچ ہزار یا اس سے کم تنخواہ پانے والے ملازمین کا کیا حال ہو گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||