BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 June, 2005, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک بیماری سب کچھ برابر کر دیتی ہے‘

دلاور مسیح
سرکاری ادارے میں خاکروب کا کام کرنے والے پچیس سالہ دلاور مسیح
’پچھلے ایک برس میں پاکستان میں مہنگائی ہی ہوئی ہے اور تو مجھے کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی۔ آٹا، چینی اور سبزیاں مہنگی ہوئی ہیں۔ بجٹ سے کیا فرق پڑے گا چیزوں کی قیمتیں مزید سو دو سو روپے اوپر چلی جائیں گی۔‘

یہ الفاظ ہیں ایک سرکاری ادارے میں خاکروب کا کام کرنے والے پچیس سالہ دلاور مسیح کے۔ اس کی اقتصادی حالت کی غیر یقینی کا اندازہ اس سے لگائے کہ وہ گزشتہ چار برسوں سے اس بجلی مہیا کرنے والے ادارے سے منسلک ہے لیکن اس کی نوکری پکی نہیں۔

دلاور کی اس سادہ سی بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو مکانوں یا زمینوں کی قیمتوں میں اضافے یا پیٹرول کی مہنگائی کی پریشانی نہیں نہ اس کا اپنا مکان ہے اور نہ زمین۔ پیٹرول اسے چاہیے نہیں کیونکہ اس کی کھٹارا سائیکل اسے جہاں چاہے بغیر کسی بڑے خرچے کے پہنچا دیتی ہے۔

 اسے صرف پریشانی ہے تو اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کی۔ آخر سائیکل کے لئے پیٹرول نہ صحیح اپنا اور اپنی بیوی بچی کا پیٹ بھرنے کے لئے تو کچھ نہ کچھ چاہیے

اسے صرف پریشانی ہے تو اشیاء خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کی۔ آخر سائیکل کے لئے پیٹرول نہ صحیح اپنا اور اپنی بیوی بچی کا پیٹ بھرنے کے لئے تو کچھ نہ کچھ چاہیے۔

تنخواہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے انتہائی سادگی سے ہکلاتے ہوئے بتایا کہ اس ادارے سے اسے تین ہزار چھ سو ساٹھ روپے ماہوار کے ملتے ہیں۔ اس نوکری کے علاوہ وہ بعد میں چار گھروں میں جا کر صفائی ستھرائی بھی کرتا ہے جس سے اسے ہزار بارہ سو روپے مزید آمدن ہوجاتی ہے۔

لیکن ایک بیوی اور دو سالہ بچی جیسا مختصر خاندان ہونے کے باوجود اس کا گزارا نہیں ہو پاتا۔ ’ہم اوکھا سوکھا گزارا تو کر رہے ہیں لیکن بچت کوئی نہیں۔ گھر میں ایک بیماری سب کچھ برابر کر دیتی ہے۔‘

کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں بسنے والے دلاور کا کہنا ہے کہ اس تنخواہ میں سے آٹھ سو تو کرائے میں نکل جاتے ہیں۔ باقی کھانے پینے اور کپڑوں پر ہی لگ جاتے ہیں۔

اسے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے ایک ہی امید ہے کہ شاید اس اربوں روپے کے ’ہیر پھیر‘ میں کم از کم ان کی تنخواہیں ہی بڑھا دی جائیں اور اس کی نوکری پکی ہوجائے۔

دلاور کے اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ آیا ان کے لئے اس بجٹ میں کچھ ہوگا یا نہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق غربت پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ ہے جس پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔

کیا نیا بجٹ اس اعتبار سے ماضی سے کچھ مختلف ہوگا؟

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66قرضوں پر گزارہ
گریڈ نو کے ایک سرکاری ملازم کا بجٹ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد