’غلطی سے‘ بجٹ میں غلطیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سی بی آر، کے چیئرمین عبداللہ یوسف نے انکشاف کیا ہے کہ بینکوں کے منافع پر ایکسائیز ڈیوٹی اور مقامی تیار شدہ کار خریدنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز کابینہ نے رد کردی تھیں لیکن غلطی سے وزیر کے تحریری بجٹ تقریر میں اس کا ذکر ہوگیا ہے۔ منگل کے روز وزیرِ مملکت برائے خزانہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ کے بارے میں پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں کے ’ایل سی، گارنٹی اور غیر ملکی کرنسی کے لین دین کی خدمات پر جو فیس اور کمیشن بینک وصول کرتے ہیں اس پر ساڑھے سات فیصد کے حساب سے ایکسائیز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے۔ عبداللہ یوسف نے بتایا کہ ملک کے اندر تیار ہونے والی کار کی خریداری پر چھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز بھی ٹیکس تجاویز میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دونوں تجاویز کابینہ میں پیش کی گئی تھیں لیکن کابینہ نے منظور نہیں کیں اور غلطی سے بجٹ تقریر میں وہ تجاویز موجود رہیں۔ ان کے مطابق دونوں تجاویز کو ٹیکس تجاویز میں شامل نہ سمجھا جائے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کی نسبت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں ٹیکس وصولی کا ہدف ایک سو ارب روپے زیادہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو ارب روپےاضافی ٹیکس آمدن میں سے دس ارب روپے نئے ٹیکسوں سے جبکہ باقی نوے ارب روپے ٹیکس کا ڈھانچہ اور دائرہ وسیع ہونے سے حاصل ہوں گے۔ بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے وزیراعظم کے وزارت خزانہ کے بارے میں مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ نے خطاب کیا اور اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب اور ڈاکٹر اشفاق حسن کے علاوہ وزارت خزانہ کے سیکریٹری اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کے مشیر نے بجٹ برائے مالی سال دوہزار پانچ اور چھ کو عوام دوست قرار دیا۔ ایک سوال پر ڈاکٹر سلمان شاہ نے مرکز اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے جسے ’این ایف سی ایوارڈ، کہتے ہیں، کے متعلق کہا کہ وہ ابھی طے نہیں ہوسکا اس لیے یہ بجٹ پرانے فارمولے کے تحت دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش ہوتے وقت حزب اختلاف نے ’نئے این ایف سی ایوارڈ، کے مطابق بجٹ نہ بنانے کو غیر آئینی قدم قرار دیتے ہوئے احتجاجی طور پر واک آؤٹ کیا تھا۔ پریس کانفرنس میں جب ڈاکٹر شاہ سے پوچھا گیا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے نجی ہاؤسنگ اور پراپرٹی کے کاروبار پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز آخری وقت پر کس کے دباؤ پر واپس لی گئیں تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی شرح نمو آٹھ فیصد سے بھی زیادہ ہوئی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اسے برقرار رکھا جائے اور کوئی قدم ایسا نہیں اٹھایا جائے جس سے سرمایہ مارکیٹ سے نکل جائے۔ افراط زر میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ ان کا اندازہ تھا کہ یہ شرح پانچ فیصد رہے گی لیکن اب نو فیصد کے قریب پہنچ گئی۔ ان کے مطابق اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگیا اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیوں میں تیرہ فیصد کے قریب اضافہ ہوا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ پے سکیلز کے لحاظ سے پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ان کے مطابق رہائشی الاؤنس میں ایک سو چونتیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ طبی اور سفری الاؤنسز کو دوگنا کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر ڈاکٹر اشفاق حسن جب بیرونی قرضوں کی واپسی کا ذکر کر رہے تھے تو ان سے دریافت کیا گیا کہ گزشتہ چھ برسوں میں کتنے قرضہ جات کس شرح سود پر حاصل کیے گئے ؟ تو ڈاکٹر اشفاق حسن نے مطلوبہ اعداد وشمار بتانے گریز کیاجس پر صحافیوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ کچھ صحافیوں نے ان پر غلط بیانی کرنے اور جھوٹے اعداد وشمار پیش کرنے کے الزامات بھی لگائے۔ قبل ازیں جب بجٹ کے متعلق ڈاکٹر سلمان شاہ کی تمہید اور ابتدائی کلمات طویل ہوگئے تو کچھ صحافیوں نے کہا کہ دیگر شعبوں کے بجائے وہ بجٹ پر بات کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||