سرکاری ملازمین کو خوشخبری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تیئیس سے انتیس فی صد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کو یہ خوشخبری سنائی۔ پاکستان کے سرکاری ملازمین کافی عرصے سے اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر کی شرح ہے۔ عمر ایوب نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت اپنے ملازمین کو ریلیف دینے کی مسلسل کوشش کرتی رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی دس فی صد تک اضافہ کیا ہے۔وزیر مملکت کے مطابق ان تنخواہوں اور پینشن میں اضافے پر حکومت پچیس ارب پچاس کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ ان تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق اس سال جولائی سے ہو گا۔ حکومت نے ملک میں کم سے کم تنخواہ کی حد دو ہزار پانچ سو روپے سے بڑھا کر تین ہزار روپے کر دی ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ تنخواہ دار طبقہ حکومت کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے اور ان کی سہولت کے لئے اگر ان کے آجر نے ٹیکس کٹوتی کی سٹیٹمنٹ داخل کرا دی ہو ان کے لئے ایمپلائی سرٹیفکیٹ داخل کرنا ضروری نہیں ہے۔ موجودہ انکم ٹیکس نظام کے موجودہ ریٹ کم کر کے تین اعشاریہ پھانچ سے تیس فی صد تک کر دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ اور ریسرچرز کی ٹیکس چھوٹ کو بڑھا کر پچاس سے پچھتر فی صد کیا گیا ہے۔ بزرگ شہریوں کی چار لاکھ تک کی سالانہ آمدنی میں پچاس فی صد چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||