سگریٹ مہنگے، الیکٹرانکس سستی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے جو ٹیکس کے متعلق تجاویز پیش کی ہیں ان کے مطابق سگریٹ مہنگے جبکہ الیکٹرانکس کی اشیا، ٹریکٹر اور گاڑیوں کی قیمت کم ہوگی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا ہے کہ سگریٹ پر ایکسائیز ڈیوٹی میں آٹھ فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔ حکومتی تجاویز کے مطابق یوریا کھاد پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کے علاوہ صابن، فریج، ایئرکنڈیشنڈ اور ٹی وی سمیت الیکٹرانکس کی مختلف اشیاء اور پلاسٹک کے پچپن چیزوں پر بھی ڈیوٹی کی شرح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بلڈوزر اور ’لیولرز وغیرہ کی درآمد پر عائد ڈیوٹی مکمل طور پر ختم جبکہ عام ٹریکٹر کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح پانچ فیصد کم کرکے اب پندرہ فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پندرہ سو سی سی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح کم کرکے پچاس فیصد جبکہ اٹھارہ سو سی سی کی گاڑیوں پر پینسٹھ اور اس سے زیادہ طاقت والے انجن کی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح پچہتر فیصد تک کردی گئی ہے۔ کار وغیرہ سمیت چھوٹی گاڑیوں کے ٹائر پر ڈیوٹی کی شرح بیس فیصد جبکہ بڑی گاڑیوں کے ٹائر پر ڈیوٹی کم کرکے دس فیصد تک مقرر کی گئی ہے۔ فرنیچر، ٹیکسٹائیل، کیمیکل، ادویات سازی، جراحی آلات، کھیل کا سامان تیار کرنے والی کمپنیوں، قالین اور چمڑے کی صنعتوں کے لیے خام مال پر ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہیں۔ لانڈری، ڈرائی کلینر اور شادی ہال کے کاروبار پر عائد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے جبکہ ’پولٹری فیڈ، اور گوشت کی ’پروسیسنگ، کرنے والی مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔ کپاس کے کارخانوں کی مشینری منگوانے پر ڈیوٹی بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر کے مطابق ’پے فون، اور ’پری پیڈ کارڈ، پر پی ٹی سی ایل کے بل کے بجائے استعمال کی بنیاد پر پندرہ فیصد ایکسائیز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ نئے بجٹ میں بسوں میں ’سی این جی، اور ’یورو 2 ، بسوں کی درآمد اور فراہمی کو سیلز ٹیکس سے مستشنیٰ کرنے کی بھی تجویز ہے۔ بینکوں اور لیزنگ کمپنیوں کے ’ایل سی، گارنٹی اور غیر ملکی کرنسی کے لین دین کی خدمات پر جو فیس اور کمیشن بینک وصول کرتے ہیں اس پر ساڑھے سات فیصد کے حساب سے ایکسائیز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بینکوں سے یکمشت پچیس ہزار سے رقم نکالنے پر صفر اعشاریہ ایک فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے اور مقامی طور پر نئی کار خریدنے پر چھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی بھی نئے بجٹ میں تجویز دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||